
میرے دادا جان حاجی محمد خان صدر موچھ بلکہ کسی حد تک ضلع کی ایک انتہائی معزز و محترم شخصیت تھے۔ آپ جمعیت علما پاکستان کے اولین رہنماؤں مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار خان نیازی کے بہت معتبر رفیق تھے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم دو چار مرتبہ ہمارے گھر ڈیرہ نجیب اللہ پر بھی تشریف لائے تھے اور ہماری یاد سے پہلے ہمارا موچھ والا گھر تو گویا ان کا بیس کیمپ ہوتاتھا۔ ہمارے دادا جان کے چہلم کی محفلِ شبینہ میں بھی مولانا نیازی ہمارے گھر آئے تھے۔ میرے بڑے بھائی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انھوں نے مولانا نیازی کی گود میں بیٹھ کر انھیں قرآن پاک کی آخری چند سورتیں زبانی سنائی ہوئی ہیں۔ وہ ہمارے گھر آتے تو اُسے گود میں لے لیتے اور کہتے کہ فلاں سورت سناؤ۔ میں چونکہ چھوٹا تھا اس لیے مجھے ان سے پیار پانے کا تو موقع ملتا لیکن سورتیں سنانے کے عمل سے محروم رہتا۔
1990ء میں ایک بار عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مولانا نیازی موچھ تشریف لائے تھے۔ اس وقت میں نہم جماعت میں پڑھتا تھا۔ میں اور میرا بڑا بھائی بھی والد صاحب کے ساتھ اس جلوس/پروگرام میں شریک تھے۔ میں نے اور بھائی نے ماتھے پر عید میلاد النبی ﷺ مبارک کے سٹکرز لگا رکھے تھے۔ ایک جگہ پر مولانا عبدالستار خان نیازی گاڑی سے اتر رہے تھے۔ ہم بھی اتفاقاً وہیں تھے۔ ہمارے والد صاحب اور ہم دونوں بھائی انھیں ملے تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے مجھے نام سے مخاطب کر کے کہا تھا کہ مجیب اللہ تم نے تو آج خوب عید منائی ہے۔ ان کے برسرِ اقتدار آنے، سیاسی مصروفیات بڑھنے اور بعض دوسری وجوہات کی بنا پر ہمارے والد صاحب کا ان سے رابطہ کم ہوتا گیا اور اس طرح ہم بھی مولانا نیازی سے دور ہوتے گئے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اس عظیم شخصیت سے رفاقت میرے دادا جان کے اُن سے تعلق کی ہی بنا پر نصیب ہوئی تھی۔
1990ء کے الیکشن کے دوران ایک بار انھوں نے موچھ کی میانہ مسجد میں خطاب کیا تھا۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس تقریر میں انھوں نے ہمارے دادا جان مرحوم کا نام لیا حالانکہ انھیں فوت ہوئے اُس وقت 10سال ہو چکے تھے۔ ایک بار میرے چچا نعمت اللہ خان کندیاں میں اُن کے کسی جلسے میں موجود تھے لیکن نیازی صاحب کو ملے نہیں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مجھے انتہائی خوشی ہوئی کہ اچانک انھوں نے میرے والد صاحب کا اپنے محسن کے طور پر نام لیا۔ اسی طرح کئی دیگر مواقع پر بھی اپنی تقاریر میں وہ ہمارے دادا جان کا نام اپنے مربی و محسن کے طور پر لیتے تھے۔

جمعیت علما پاکستان سے وابستہ سبھی لوگ ہمیں اپنے دادا کی وجہ سے بے حد پیار کرتے ہیں چاہے وہ موچھ کے عبدالکریم خان تاج صاحب ہوں یا مولانا مصباح الحق خان۔ روکھڑی کی عظیم شخصیت جناب حاجی اسلم خان روکھڑی صاحب سے ایم ایم اے اور جماعت اسلامی کی کئی تقریبات میں بہت زیادہ آمنا سامنا رہتا تھا۔ میں ان کا بے حد احترام کرتا اور وہ مجھ سے بے حد پیار کرتے۔ ایک بار جب وہ کچھ بیمار تھے اور عصا پکڑ کر جماعت اسلامی کے پروگرام میں شریک ہوئے تو سٹیج سے اترتے وقت انھیں کچھ دشواری پیش آرہی تھی۔ میں بھی سٹیج کے ساتھ ہی کھڑا تھا لیکن مجھ سے بھی زیادہ قریب کھڑے جماعت اسلامی کے کسی ساتھی نے انھیں سہارا دینے کی کوشش کی تو اُسے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں میں آپ کا سہارا نہیں لوں گا بلکہ مجھے مجیب سہارا دے کیونکہ یہ حاجی محمد خان صدر کا پوتا ہے۔ یہ عزت و احترام سبھی ہمارے دادا کی کمائی تھی جو اُن کے فیض کی صورت ہمیں وَرثے میں ملا۔ جمعیت علما پاکستان سے ہٹ کر بھی موچھ کے بیسیوں بزرگ مجھے بے حد پیار کرتے ہیں اور مجھے میرے دادا جان کے قصے سناتے ہیں۔ اُن میں سے ایک چاچا عمر حیات خان اونر عمر پٹرولیم موچھ پل بھی ہیں جن سے ہونے والی کوئی ملاقات بھی میرے دادا کے ذکر سے خالی نہیں رہتی۔
میرے دادا سیاسی طور پر انتہائی متحرک شخصیت تھے۔ ضلع کے نامور سیاسی رہنما سینیٹر امیر عبد اللہ خان روکھڑی (مرحوم) اور نواب آف کالا باغ ملک امیر محمدخان (مرحوم) سے آپ کا بہت اچھا ذاتی تعارف تھا۔ نواب صاحب ہمارے دادا جان کا بے حد احترام کرتے تھے (اس کی تفصیلات بعد میں کسی وقت)۔ میرے دادا جان ایک دین دوست، مذہبی مقرر اور بلا کے حاضر جواب انسان تھے۔ وہ اگرچہ دعوت وتبلیغ کے خوگر اور لوگوں کی اصلاح کے لیے ہر لمحہ متفکر رہتے تھے لیکن اُن کی ایک بہت بڑی خامی تھی کہ جب بھی کسی کو ڈانٹتے تو اُسے کہتے: ”سور کا بچہ“۔
میری والدہ نے میرے دادا جان کی وفات کے کافی عرصہ بعد اُن کا ایک واقعہ سنایا جو انھوں نے ہمارے دادا جان سے سن رکھا تھا۔ وہ بتاتی تھیں کہ ایک بار دادا جان میانوالی سے موچھ گھر آرہے تھے۔ وہ دور میانوالی پیدل یا پھر سائیکل پر آنے جانے کا تھا۔ راستے میں مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا تو کہیں رک کر نماز پڑھی۔ ساتھ ہی کچھ نوجوان خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ دادا جان نماز میں مشغول ہوگئے۔ وہ نوجوان ایک دوسرے کو اپنے ”مرد“ ہونے کا ”یقین“ دلانے کی خاطر اپنے قصے بتا رہے رہے۔ ایک کہہ رہا تھا کہ جب میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو میرے رعب سے میری بیوی تھر تھر کانپنے لگتی ہے۔ دوسرا کہہ رہا تھا کہ جب میں گھر ہوتا ہوں تو میری دہشت سے میری بیوی کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میری مردانگی سے میری بیوی کمرے میں چھپ جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ امی نے بتایا کہ دادا جان نے کہا میں نماز کے دوران ان کی باتیں سن رہا تھا اور میری خواہش تھی کہ نماز کے اختتام تک اُن کی محفل برخاست نہ ہو۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو انھیں کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر آپ تو ”سور کے بچے“ ہو۔ ہماری بیویاں تو جب تک ہم گھر نہیں جاتے بیچاری ہماری راہ تکتی رہتی ہیں۔ ہم جیسے ہی گھر پہنچتے ان کی خوشی دیدنی ہوتی۔ یہ سن کر وہ نوجوان شرمندہ ہوئے اور خاموش ہو گئے۔
کیا بھلا زمانہ تھا جب کوئی بزرگ یا سفید پوش نوجوانوں کی اصلاح کے لیے انھیں ڈانٹتا تو وہ برداشت کرتے تھے۔ کاش آج بھی برداشت اور بڑوں کے احترام کا وہی کلچر زندہ ہوجائے!
میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ میرے دادا جان حاتم طائی تھے تاہم اتنا کہوں گا کہ ایک غریب گھرانے کا فرد جس قدر مہمان نواز ہو سکتا ہے وہ اتنے مہمان نواز ضرور تھے۔ مذہبی رہنماؤں اور علما کرام کی موچھ آمد پر اُن کی میزبانی کا شرف حاصل کرتے تھے۔ اِس بات کا اظہار مجھ سے کئی مرتبہ مولانا مصباح الحق خان نے بھی کیا ہے۔ ہمارے دادا جان 1967ء کے بعد سے موچھ سے ڈیرہ (میری رہائش گاہ ڈیرہ نجیب اللہ) پر آگئے تھے۔ موچھ سے جو لوگ اپنی فصلوں کو پانی لگانے یا کھیتی باڑی کی غرض سے ڈیرہ نجیب اللہ پر اپنے رقبوں میں آتے تو ان کے یہاں گھر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے دادا جان انھیں اُن کے کھیتوں میں خود جا کر چائے اور کھانا پہنچاتے تھے۔ بعد میں جب چچا رب نواز خان نے ڈیرے پر سکونت اختیار کی تو ہمارے گھرانے کی یہ ڈیوٹی کم ہوئی اور انھوں نے بھی مہمانوں کی خدمت کی روایت نبھائی۔ چچا رب نواز خان تو 2006 ء میں وفات پا گئے ہیں تاہم آج بھی اُن کے بیٹے اور پوتے اپنے والد اور دادا کی اُس روایت کو بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے ڈیرے کو آباد و شاد رکھے۔
ِ کوئی شخصیت کتنی ہی معتبر، معزز اور محترم کیوں نہ ہو اپنی اولاد، اہلِ خانہ اور پوتے پوتیوں کے لیے وہ ایک عام والد، عام شوہر اور عام دادا ہی رہتی ہے۔ ہمارے دادا بھی ہمارے لیے ہمارے معاشرے کے دیگر دادوں کی طرح ایک عام دادا ہی تھے۔ میرے دادا جان کو اللہ تعالیٰ نے کئی بیٹیوں کے بعد تین بیٹوں سے نوازا تھا۔ ایک جوان بیٹا شادی سے قبل فوت ہوگیا۔ اُس کی فوتگی کے بعد ہمارے والد صاحب ہمارے دادا کے بڑے بیٹے تھے۔ ہمارے دادا جان کو ہمارے والد صاحب سے بے حد پیار تھا۔ ہمارے دادا جان نے اپنی زندگی میں اگرچہ تین پوتے اور ایک پوتی دیکھی تھی لیکن انھیں صرف دو (راقم اور اس کا بڑا بھائی عبد اللہ) کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا۔ ہمارے چھوٹے بھائی حبیب اللہ کی پیدائش ہمارے داد اجان کی وفات سے چار دن قبل اُس وقت ہوئی جب وہ آپریشن کی غرض سے ڈی ایچ کیو ہسپتال میانوالی میں داخل تھے۔ پوتے کی پیدائش کی خوشی میں کچھ دیر کے لیے ہسپتال سے گھر آئے، پوتے کو دیکھا، اُس کا نام رکھا اور واپس ہسپتال چلے گئے۔ اس کے علاوہ ہمارے چچا نعمت اللہ خان کی ایک بیٹی، غلام فاطمہ کو بھی انھوں نے دیکھا تھا لیکن وہ جلد ہی اللہ کو پیاری ہو گئی تھی۔ ہم دو بھائیوں، عبد اللہ اور مجھے دادا جان کے ساتھ کھانے پینے، اُٹھنے بیٹھنے اور کھیلنے کودنے کا خوب موقع ملا تھا۔ وہ میری نسبت میرے بڑے بھائی سے زیادہ محبت کرتے تھے۔ مجھے دو چار ایسے واقعات یاد ہیں جب مجھے اپنے دادا جان سے لفظ ”سور کابچہ“ سننے کا موقع ملا تھا۔
ایک بار میرے دادا اور دادی دو چارپائیوں پر آمنے سامنے بیٹھے محوِ گفت گُو تھے۔ دادا جان کی چارپائی کے ساتھ اُن کا قیمتی عصا بھی دھرا تھا۔ میں نے اس عصا کے ایک سرے کو ایک چارپائی اور دوسرے سرے کو دوسری چارپائی پر رکھ کر اُس کا پل بنایا اور خود اُس پل کے او پر بیٹھ گیا۔ میرا اُس ‘پُل’ پر بیٹھنا تھا کہ وہ عصا کسی حرام خور ٹھیکیدار اور حرام خور افسر شاہی کے تعمیر کردہ پل کی طرح دھڑام سے نیچے آگرا۔ ظاہر ہے میں بھی ”دریا“ میں ”بہنے“ لگا۔ ابھی مجھے دو چار ”غوطے“ ہی آئے تھے یعنی سنبھلا ہی نہیں تھا کہ دادا جان کے الفاظ مبارک سنائی دیئے: ”سور کا بچہ۔۔۔“ میں فوراً چارپائی کی دوسری جانب سے باہر نکلا اور دادا جان کے پوزیشن سنبھالنے سے پہلے جائے واردات سے غائب ہوگیا۔
اسی طرح ہم سردیوں میں چولہے پر کچن (دراصل چُلہانڑاں) میں موسم سرما سے خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔ دادا کی پیٹھ پر چڑھ کر اُن کے سر سے ان کی گود میں گرنا میرا اور میرے بڑے بھائی کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا لیکن کوئی ایسا دن نہ ہوتا جس کا انجام بخیر ہوتا۔ میری کوئی نہ کوئی چھلانگ بالآخر دادا جان کے غصے کو پکارنے میں کامیاب ہو ہی جاتی اور پھر میں ”سور کا بچہ۔۔۔“ کی گردان سننے کے بعد چولہے پر ایک کونے میں دبک کر بیٹھ رہتا (لفظ ”چولہے پر“ سے صرف وہ لوگ ہی محظوظ ہو سکتے جنہوں نے چولہوں پر بیٹھنے کا وہ دور دیکھا ہوا)۔
چولہے سے یاد آیا کہ اس زمانے میں جب کبھی لوڈشیڈنگ ہوتی تو چمنی جلائی جاتی تھی۔ چمنی لیمپ سے پہلے کی اس کی ایک سادہ شکل ہوتی تھی۔ لیمپ کا شعلہ تو شیشے کے ایک کور (آری یا عاری) میں بند ہوتا تھا جبکہ چمنی کا شعلہ کھلا ہوتا تھا۔ مجھے ایک عادتِ بد تھی کہ میں موقع پاتے ہی چمنی کے شعلے کو پھونک مار کر بجھا دیتا تھا۔ اس کے بدلے میں مجھے ”سور کا بچہ۔۔۔“ سننے کا ایک بار پھر موقع مل جاتا تھا۔ دادا جان کی وفات کے بعد بھی میں اس عادتِ بد کا شکار رہا۔ حتیٰ کہ جب بعد میں لیمپ آگئے توکچھ عرصہ لیمپوں پر بھی میں نے پھونک سے طبع آزمائی کی لیکن ہمیشہ ناکامی ہوتی۔ اس پیہم ناکامی اور عمر کے بڑھنے سے بالآخر میں نے اس عادتِ بد سے جان چھڑا لی تھی۔
ایک دن ہمارے رقبے میں ایک جگہ مستری حوضی (ٹیوب ویل کے پانی کے کنٹرول کے لیے بنایا جانے والا حوض) بنا رہے تھے۔ ساتھ ہی پانی کے ایک نالے پر شیشم کا درخت تھا۔ میں اس کی ایک ٹہنی سے لٹکتا اور نالے کی ایک طرف سے جھول کر دوسری طرف آجاتا جہاں ساتھ ہی مستری حوضی پر کام کر رہے تھے۔ میرے اُس ”جھولنے“ سے شاید مستری ڈسٹرب ہوتے تھے جو دادا جان نے ایک بار پھر نعرہ لگایا: ”سور کا بچہ۔۔۔“ اور میں ایک بار پھر انتہائی مستعدی سے جائے واردات سے بھاگنے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
دادا جان کے ساتھ گزارا وہ وقت بھلا کہاں بھول سکتا ہے جب ظہر کی نماز کے فوراً بعد (پیشیں ویلے) روزانہ چائے بنتی تھی اور دادا جان اس چائے کے ساتھ بلاناغہ ”ستو باڑھو“ لیتے تھے۔ اُن کا یہ ستو باڑھو ایک جستی ڈبے (ہم تو اسے سرائیکی میں دَبلہ کہتے تھے) میں لِتُنڑ کی پڑچھتی پر پڑا ہوتا تھا۔ ہم دونوں بھائی اُس وقت انتہائی مؤدب انداز میں دادا کے سامنے بیٹھ جاتے اور اُن کے اشارۂ ابرو کے منتظر ہوتے۔ جیسے ہی وہ مبارک گھڑی آتی‘ ہم دونوں بھاگ کر کسی چارپائی یا سٹول پر چڑھ کر پڑچھتی سے وہ ”دَبلہ“ اتارتے اور آکر دادا جان کی خدمت میں پیش کرتے۔”دَبلہ“ اتارنے کا یہ مقابلہ اکثر میں ہی جیت جاتا۔ اس کے بدلے میں ہمیں بھی اپنی چائے کی پیالی میں دو چمچ ستو ڈالنے کی اجازت مل جاتی اور ہم اس انتہائی لذیذ نعمت سے خوب لطف اٹھاتے۔ یہ بچپن بھی کیا چیز ہے۔ اُن دنوں ہم سمجھتے تھے کہ ہمیں دادا جان کو ”دَبلہ“ اُٹھا کر دینے کے معاوضے میں یہ سوغات ملتی ہے حالانکہ ایسا قطعاً نہیں۔ کھانے کی کوئی چیز بچوں کو دیئے بغیر بھلا والدین کو اچھی ہی کب لگتی ہے۔
8 ستمبر 1980 ء کو پروسٹیٹ کے آپریشن کے دوران اِس عظیم ہستی کا انتقال ہوا تھا۔ اللہ پاک انھیں جنتیں نصیب فرمائے۔ آمین!