0

میرے پرائمری سکول دور کے اساتذہ… مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

میں اپنی تعلیم کے آغاز میں کچھ دن ایک قریبی گرلز پرائمری سکول (ڈیرہ مجید باغ) میں پڑھا تھا۔ وہاں دو معلمات تھیں جو آپس میں نند بھابی تھیں۔ اُن کے نام محترمہ اسماء خاتوں صاحبہ اور محترمہ عالم خاتوں صاحبہ تھے۔ اُن اساتذہ میں سے ایک کا پچھلے رمضان (2018 ء) میں انتقال ہو گیا ہے اور دوسری الحمدللہ بقیدِ حیات ہیں اور مسلم کالونی میانوالی میں رہتی ہیں۔ اور یہ بھی کتنا عجیب اتفاق ہے کہ اِس وقت میرے چار سابق اساتذہ مسلم کالونی میں رہائش پذیر ہیں۔

محترمہ اسماء خاتوں صاحبہ چچا خان مظفر خان کی بیوی جبکہ طارق اقبال خان، ہیڈماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول پائی خیل، کی والدہ ہیں۔ اور عالم خاتون صاحبہ درویش خان، سب انسپکٹر پنجاب پولیس، ہمایوں خان، پنجاب پولیس، معروف کبڈی کھلاڑی، مسعود خان، عمران خان اور عاصم خان، پنجاب پولیس، کی والدہ تھیں۔

اُن دِنوں یہ دونوں معلمات موچھ سے مجید باغ آتی تھیں۔ بچوں کے ساتھ اِن کا معاملہ انتہائی شفقت بھرا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار مجھے تختیوں کی مٹی کی ضرورت تھی تو میں نے اپنی محترم اُستانی عالم خاتوں صاحبہ کو ایک روپیہ دیا تھا اور وہ میرے لیے اتنی مٹی لائی تھیں کہ میرے گھر میں موجود پانچ کلو والا گھی کا ڈبہ مکمل بھر گیا تھا حالانکہ اُس سے پہلے اور نہ کبھی اُس کے بعد مجھے کسی دوسری دکان سے ایک روپے کی اتنی مٹی ملی تھی۔

تقریباً انیس بیس سال بعد میں اپنی دونوں اساتذہ کے صاحبزادوں میں سے بیک وقت ایک (محمد عاصم خان) کا ٹیچر بنا اور دوسرے (طارق اقبال خان) کا رفیقِ کار بنا تھا۔ میں جب 1999ء میں الصفہ ماڈل ہائی سکول سسٹم موچھ میں ٹیچر تھا تو طارق اقبال خان ہمارے وائس پرنسپل تھے۔ طارق اقبال خان نے ایک بار جب اپنی پھوپھو یا والدہ سے میری ٹیچنگ اور طلبا سے ڈسپلن کے معاملات میں سختی کا ذکر کیا تو اُنھوں نے طارق خان کو کہا کہ جب وہ بچہ تھا تو اُس وقت بھی سارا دن اساتذہ سے سوال کرتا تھا اور اُن کے ناک میں دم کر دیتا تھا اور اب تو وہ خود ایک ٹیچر ہے تو پھر طلبا کو کیسے آرام سے رہنے دے گا۔

میراپہلا باقاعدہ داخلہ گورنمنٹ پرائمری سکول خواجہ آباد شریف میں ہوا تھا۔ وہاں پر مجھے جو اوّلین اساتذہ یاد ہیں اُن میں سے ایک جناب غلام محی الدین شاہ صاحب (المعروف لالا جی استاد) ہیں۔ لالا جی استاد صاحب آستانہ عالیہ خواجہ آباد شریف کے معزز پیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ لالا جی استاد انتہائی با رعب انسان اور با رعب معلم تھے۔ آپ کا گورا چٹا رنگ تھا۔ آپ سفید قمیض پہنتے اور سفید تہمد باندھتے تھے۔ کرسی کے بجائے چارپائی استعمال کرتے تھے۔ کبھی کبھار اُسی چارپائی پر سو بھی جاتے تھے۔ ایک بار جب وہ سو رہے تھے تو اُنھوں نے ہماری جماعت کو شور نہ کرنے کا کہا لیکن چونکہ ہم ”چھور“ تھے اس لیے شور کرنے لگ گئے تو وہ سخت غصے میں چارپائی سے اُٹھے اور دریخ (بکائن) سے ایک شاخ توڑی اور اُس سے چھڑی بنا کر پوری کلاس کے طلبا کو پیٹھ پر ایک ایک چھڑی رسید کی تھی۔ اس”اجتماعی سزا“ کے علاوہ انھوں نے مجھے کبھی سزا نہ دی تھی۔

اِسی پرائمری سکول میں سر ملک زمان صاحب آف دندی ہمارے انتہائی شفیق معلم رہے۔ عبید اللہ خان ہزارے خیل صاحب بھی کچھ عرصہ ہمارے استاد رہے تاہم آپ ایک سخت گیر معلم تھے۔ سر فدا شاہ صاحب آف دلیوالی، بدر شاہ صاحب آف خواجہ آباد، سر علی محمد شاہ صاحب آف دلیوالی بھی پرائمری سکول میں ہی ہمارے ٹیچر رہے۔

مذکورہ بالا سکول میں جن اساتذہ سے میں بے حد متاثر ہوا وہ دو اساتذہ تھے۔ ایک جناب ملک غلام عیسیٰ سیوڑہ صاحب آف محمد یار والا اور دوسرے جناب عبد الحمید شاہ کاظمی آف خواجہ آباد شریف تھے۔ غلام عیسیٰ سیوڑہ صاحب جب ہمارے سکول میں ٹرانسفر ہوکر آئے تھے توشاید ان کی کوئی دشمنی چل رہی تھی اس لیے اپنے ساتھ بارہ بور سنگل بیرل بندوق لاتے تھے۔ انتہائی سنجیدہ اور محنتی استاد تھے۔ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے۔ آپ نے ہمیں چہارم اور پنجم پورے دوسال بہت محنت اور شفقت سے پڑھایا۔ ان دو سالوں میں شاید ہی کوئی ایسا دن آیا ہو جس میں انھوں نے مجھے سزا دی ہو۔ میرے لیے یہ بات بھی خوشی کا سبب ہے کہ میں غلام عیسیٰ صاحب کے بیٹے کا بھی سکول ٹیچر رہا ہوں۔ مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے تو غلام عیسیٰ صاحب کی نمازِ جنازہ یکم جون2001ء کو پڑھی گئی تھی۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اُن کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کر سکا تھا۔

عبد الحمید شاہ صاحب سے ہم دوسری /تیسری میں پڑھے تھے۔ انھوں نے ہمیں اچھی تعلیم تو دی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہم نصابی سرگرمیوں پر بے حد توجہ دی۔ ہمیں ادبی سرگرمیوں میں شریک کرواتے اور سکول میں کھیلنے کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ پرائمری سکول کے اندر اُس وقت کئی ایسے خوب صورت اور منظم فنکشن کرائے جو اُس دور کے شاید ہائی سکولوں میں بھی نہ ہوتے تھے۔ان پروگراموں کے لیے استعمال ہونے والی زیادہ تر کراکری، فرنیچر، آرائشی اشیاء، میزوں کرسیوں کے کورز الغرض سبھی کچھ اپنے گھر سے منگواتے تھے۔ انھوں نے ہی مجھے سٹیج پر بات کرنے کا حوصلہ دیا تھا۔ مجھے والد صاحب تقریر لکھ کر دیتے اور وہ سٹیج پر پرفارم کرواتے تھے۔ یہ بھی انھی کی بدولت تھا کہ فروری/ مارچ1987ء میں پانچویں جماعت کے نتیجے کے انتظار کے دنوں میں جب گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول موچھ میں مجید اللہ خان مرحوم و مغفور نے تقریری مقابلوں کے لیے ایک عظیم الشان فنکشن کاانعقاد کیا تھا تو اُس فنکشن میں اپنے سکول کی طرف سے میں نے نمائندگی کی تھی۔ اس مقابلے میں میانوالی کے معروف ڈاکٹر و سابق ایم ایس ڈی ایچ کیو میانوالی امیر احمد خان بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر امیر احمد خان اور میں ہم عصر ہیں۔ ہم ایک ہی دور میں ایک ہی کلاس میں ہوتے تھے تاہم اُن کا اور میرا سکول ہمیشہ مختلف رہا۔اُس وقت وہ اپنے سکول گورنمنٹ ایلیمینٹری سکول خان محمد والا کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اس مقابلے میں میری تیسری پوزیشن تھی جبکہ یعقوب اسمٰعیل شاہ اور ڈاکٹر امیر احمد خان بالترتیب اول اور دوم پوزیشن پر آئے تھے۔ مجھے تیسری پوزیشن کے لیے بیس یا تیس روپے نقد انعام بھی ملا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارا چھوٹا بھائی حبیب اللہ خان انجیکشن لگوانے سے بہت گھبراتا تھابلکہ گھبراتا کیا تھا بالکل بھی نہیں لگواتا تھا۔اور اُن دنوں سکولوں کے اندر حفاظتی قطروں کے بجائے حفاظتی ٹیکے لگانے والے آیا کرتے تھے۔ جیسے ہی سکول میں ٹیکے لگانے والے آئے تو حبیب اللہ نے انھیں دیکھتے ہی استادِ محترم سے پانی کی چھٹی مانگی اور یہ جا اور وہ جا۔ جب کسی ”مخبر“ نے”ملزم“ کے فرار ہونے کی اطلاع استادِ محترم عبدالحمید شاہ کاظمی کو دی (پرائمری سطح تک عموماً ایسی مخبریوں اور اطلاعات کا فریضہ آپ کا قریب ترین دوست انجام دیتا ہے) تو استادِ محترم نے پہلے تو اپنے ”خصوصی دستے“ ملزم کو پکڑ کر لانے کے لیے بھیجے (اُس وقت ہر پرائمری سکول میں ایسے خصوصی دستے ضرور ہوتے تھے اور عموماً اُن دستوں میں سکول کے نکمے ترین طلبا شامل ہوتے تھے) مگر ملزم مستقبل کا پولیس مین تھا اس لیے اُس کی گرفتاری ممکن نہ ہوئی تو عبدالحمید شاہ صاحب نے فوراً مجھے چھٹی دی اور کہا کہ جا کر اُسے پکڑو اور گھر لے جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ خوف زدہ ہوکر نہر میں ہی چھلانگ لگا دے۔ واضح رہے کہ اُن دنوں کھمبیوں کی طرح اُگے یہ ٹی وی چینلز اور تھوک کے بھاؤ یہ میڈیا پرسنز اور خاص طور پر ایسے والدین نہ ہوتے تھے جو کسی بھی ایسے حادثے کا سارا ملبہ استاد پر ڈالتے۔ اُن دنوں اساتذہ کو سوائے اللہ کے کوئی دوسرا خوف نہ ہوتا تھا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ وہی خوف سب سے بڑا اور کارگر خوف ہے جو ہمارے اداروں کی حقیقی ترقی کا ضامن ہے۔ ہمارے استاد کو بھی وہی خوفِ خداوندی لاحق تھا اور اُس نے پرائی اولاد کو اپنی اولاد جانا تھا تبھی مجھے چھٹی دی اور کہا کہ اُس کا بستہ بھی لیتے جاؤ اور اسے بھی گھر لے جاؤ۔ المختصر یہ کہ عبد الحمید شاہ صاحب کے اندر اچھے معلم کے تقریباً تمام ہی اوصاف موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں