
میری نظر پیدائشی کمزور ہے اور اچھی بھلی کمزور ہے۔ اتنی کمزور نظر کے ساتھ شاید ہی کوئی فرد ہو جو اتنی بھرپور زندگی گزار رہا ہو جتنی اللہ نے میرے حصے میں لکھی ہے۔ جب کبھی اِس کمزوری کا احساس شدت پکڑنے لگتا ہے تو فوراً استغفار کرتا ہوں اور اُن لوگوں کو ذہن میں لاتا ہوں جنہیں کئی بار اپنی آنکھوں سے دیکھا جو مجھ سے کئی گنا زیادہ خوب صورت ہیں لیکن اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اُن کے 6-6 فٹ کے جوان لاشے اُن کے عزیز و اقارب ہسپتالوں میں اٹھائے پھر رہے ہوتے۔ اس تصور سے ہی احساسِ کمزوری احساسِ شکر میں بدل جاتا اور میں خود کو اپنے اللہ کا بہت لاڈلا سمجھنے لگتا۔
اس کمزور نظری کی بنا پر میری زندگی میں کئی لطیفے واقع ہوئے ہیں جو کسی اور موقع پر سنائے جائیں گے۔ آج آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ مجھے یا میرے خاندان کو پہلی بار کب اور کیسے پتا چلا تھا کہ میری نظر کمزور ہے۔
میں اور میرا بڑا بھائی گورنمنٹ پرائمری سکول خواجہ آباد شریف میں پڑھتے تھے کہ اچانک ایک حکومتی فرمان جاری ہوا جس میں تیسری جماعت تک کی کلاسز خواجہ آباد شریف کے آستانہ عالیہ کی مرکزی مسجد میں منتقل کردی گئیں جبکہ چوتھی پانچویں جماعت بدستور مذکورہ سکول میں رہنے دی گئیں۔ میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اور میرا بھائی چوتھی میں۔ اس طرح میں اور میرا بھائی ایک دوسرے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر دو الگ الگ جگہوں پر تعلیم حاصل کرنے لگے۔
ہم اس مسجد کے وسیع وضو خانہ کی جگہ پر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے کہ میرے ایک استاد جو اس نئی تقسیم کے بعد ہمارے حصے میں آئے تھے‘ مجھے بار بار یہ کہتے کہ آپ تختی لکھتے وقت یا کتاب پڑھتے وقت تختی یا کتاب پر جھک کیوں جاتے ہو۔ مجھے کیا پتا تھا کہ کیوں جھک جاتا تھا۔ بہر حال وہ استاد صاحب مجھے برے لگنے لگے۔ میں دل ہی دل میں اُن سے نفرت کرنے لگا۔ وہ نا صرف اپنی اِس ”گھٹیا حرکت“ سے باز نہ آئے بلکہ ایک دن میرے بڑے بھائی کو بھی بلوا بھیجا اور مجھے کہا کہ میں آپ کے بھائی سے بات کرتا ہوں ۔ مجھے شک ہے کہ آپ کی نظر کمزور ہے۔
استاد صاحب کا یہ طرزِ عمل میں اپنے لیے ذلت کا سبب سمجھنے لگا اور مجھے لگا کہ یہ طلبا کی نظر میں مجھے ذلیل کرنا چاہتا ہے۔خیر! کچھ ہی دیر گزری تھی کہ میرا بڑا بھائی آگیا۔ استاد صاحب نے اُسے ساتھ بٹھا لیا اور میری کمزوری کے بارے میں اس سے بات چیت کرنے لگے۔ میں کچھ ہی فاصلے پر بیٹھا اُن کے درمیان ہونے والی گُفت گُو سن رہا تھا۔ اُس وقت استاد صاحب کے ساتھ مجھے بھائی سے بھی نفرت ہو رہی تھی کہ وہ کیونکر استاد کی بات توجہ سے سن رہا ہے۔

استاد صاحب نے میرے بڑے بھائی کو کہا کہ آپ مجھے تختی دیں میں اس پر کچھ لکھتا ہوں اور پھر مجیب اللہ کو ہم پڑھنے کو کہیں گے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ بھائی کے پاس دھلی ہوئی تختی تھی اور اُس پر لکیریں لگی ہوئی تھیں۔ استاد صاحب نے تختی کی پہلی لائین پر نیلے بال پوائنٹ سے بہت جلی انداز میں حرف ”ب“ لکھا تھا۔جب استاد صاحب لفظ ”ب“ لکھ رہے تھے تو میں دل ہی دل میں اپنے لیے دعائیں اور استاد صاحب کے لیے بد دعائیں بھی کررہا تھا۔
جب استادصاحب نے لفظ لکھ لیا اور مجھے کچھ فاصلے سے پڑھنے کی پیشکش کی تو میں نے کمال کامن سینس کا استعمال کرتے ہوئے یہ سوچا کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہر کام کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کرتے ہیں اس لیے اِنھوں نے بھی لازماً بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہی لکھا ہوگا۔ میں نے چھوٹتے ہی کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ دونوں احباب نے کچھ اس طرح ایک دوسرے کی طرف دیکھا کہ مجھے یقین ہوگیا کہ میرا تکا غلط جگہ پر لگ گیا۔ میں ایک بار پھر اپنی نظروں میں بھی گر گیا اور طلبا کے سامنے بھی خود کو بہت ذلیل اور بے عزت محسوس کر رہا تھا۔ اس لیے ایک بار پھر استادِ مکرم کو بد دعائیں دینے لگا اور اب کی بار بد دعاﺅں میں گالیوں کی آمیزش بھی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ قریب سے تختی دیکھوں تاکہ معلوم ہو کہ اس پر کیا لکھا گیا تھا لیکن مجھے یہ ہمت نہ ہورہی تھی کہ میں ایسا کر سکتا۔ گھر جا کر میں نے اپنی یہ خواہش پوری کی تھی۔
استادِ مکرم کی اس توجہ کے بعد بھی سال دو معاملہ یوں ہی چلتا رہا اور پہلی بار مجھے چوتھی جماعت میں ڈاکٹر محمد حسین ملک سے آنکھوں کے چیک اپ کے بعد عینک لگی تھی۔
جب میں نے کچھ شعور پکڑا تو مجھے اُس استاد کے بارے اکثر خیال آتا جس نے اپنی اولاد سمجھ کر میری تکلیف کی تشخیص کی تھی اور جو چاہتا تھا کہ میں جلد از جلد علاج یا چشمہ لگانے کے مراحل سے گزروں تاکہ میری نظر کا مزید نقصان نہ ہو؛ تو میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ اُن استاد صاحب کا نام جناب عبد الحمید شاہ کاظمی آف خواجہ آباد شریف ہے اور اِن دنوں مسلم کالونی میانوالی میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔زیرِ نظر تصویر انھی کی ہے۔
وہ ایک سرکاری استاد تھے۔ اب اگر آج میرے سامنے کوئی نادان کہے کہ سرکاری اساتذہ نااہل، نکمے، کام چور اور بدنیت ہوتے ہیں تو میرا ردِ عمل کیا ہوگا۔ میرے خیال میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔