0

نوری اور بکرے کی ران … افضل عاجز

 

افضل عاجز

اے میرے صاحب!

گرمی نے خاصا سماں باندھ رکھا ہے ابھی کل ہی دو گیت لکھے تھے صبح دیکھے تو معلوم ہوا ہم نے جو گیت لکھے تھے وہ تو غزلیں تھیں اب غزلوں کا کیا اچار ڈالیں۔۔۔

کہہ رہے ہیں کہ ابھی چند دن مزید گرمی رہے گی۔ محکمہ موسمیات والے بتا رہے ہیں پندرہ بیس جون کے درمیان مون سون کا آغاز ہوگا مگر یہ ہمارے حاجی اکرام اللہ ہیں۔ یہ موسم کے حوالے سے محکمہ موسمیات سے مختلف پیشن گوئی فرماتے رہتے ہیں سمجھ نہیں آتی دونوں میں سے کس کی بات پر ایمان لایا جائے۔۔۔

کل ایک تربوز خریدا اور گھر میں موجود ایک چھوٹی سی کیاری میں رکھ دیا تاکہ قدرتی آب ہوا میں ٹھنڈا ہوجائے شام کو چیرا پھاڑا تو معلوم ہوا پڑے پڑے گل گیا ہے کھانے کے قابل نہیں رہا۔۔۔

قربانی کے دن سے گوشت نہیں کھایا حالانکہ گھر میں ہر طرف ہر ایک اپنے ہاضمے اور پیٹ کے حساب سے گوشت کھانے میں لگا ہوا تھا۔ بہو نے ضد کی بابا تھوڑا سا کھا لو سو ہم نے بھنے ہوئے گوشت کی چند بوٹیاں کھا لیں مگر پھر ساری رات گوشت نے ہمیں اور ہم نے گوشت کو نہ سونے دیا۔

خدا لگتی بات ہے نوری گوشت بہت اچھا بناتی تھی ابا کی آنکھوں سے چرا کے ایک ران رکھ لیتی ابا پوچھتے دوسری ایک ران کم ہے پورے اعتماد کے ساتھ کہتی جانور کی ایک ران تھی دوسری تھی کہاں۔۔۔

یہ سنتے ہی نوری کے ابا پریشان ہوجاتے کہ کہیں عیب دار جانور تو قربان نہیں کر دیا سو وہ سیدھا مولوی صاحب کے پاس جاتے مولوی صاحب مختلف کتابوں کا مطالعہ فرماتے ہوئے کہتے یہ مسئلہ بڑے مولوی صاحب کے پاس لے جانا پڑے گا اور یوں مولوی اور نوری کا ابا رمکے رمکے بڑی مسجد کی طرف چل پڑتے ادھر نوری ران کو مسالہ لگا کے بھون دیتی اور پھر ابا کے آنے سے پہلے پہلے ہم شکم میں اتار چکے ہوتے۔۔۔

مگر اب نہ نوری نہ ناری سب کچھ تو بدل گیا ہے۔۔۔

جی مجھے خود کو معلوم نہیں یہ میں نے کیا لکھا ہے۔ خود ہی سمجھیں کہ کیا لکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں