تازہ ترین

فیس بُک کے اہل قلم (قسط دوم)

فیس بُک کے اہل قلم میں وہ لوگ مقبولیت کے لحاظ سے نمایاں ہیں جو میری طرح اپنے ماضی کی یادیں شیئر کرتے ہیں۔ آج کل فیروزاحمد خان ترین، سید عقیل شاہ، اور عبد المجید تلوکر صاحب یہ کام بہت...

فیس بک کے اہلِ قلم (قسط اول)

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے فیس بک کی وادی میں قدم رکھا تو سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا میرا کوئی ہم عمر ہم مشرب بندہ بھی یہاں موجود ہے...

فیس بُک، عالمگیریت اور فوری رسپانس

فیس بک دل کی باتیں شیئر کرنے کا بہت اچھا وسیلہ ہے اس وقت بہت سے لوگ فیس بک پر اپنے خیالات احساسات معلومات، تجربات اور مشاہدات منظرعام پر لارہے ہیں۔ فیس بک کے قارئین ان پوسٹس سے محظوظ اور...

میانوالی کے نثر نگار… ڈاکٹر اجمل نیازی

مرحوم ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اگرچہ بہت اچھے شاعر بھی تھے لیکن وہ بنیادی طور پرایک صاحب طرز نثر نگار تھے۔ صاحب طرز نثر نگار وہ ہوتا ہے جس کا اپنا منفرد انداز تحریر ہو۔ اچھے نثر نگار تو بہت...

میانوالی کے نثر نگار

میانوالی کے نثر نگار بحمد اللہ تعالٰی مری کا دورہ بخیرو عافیت تمام ہوا۔ مری روانگی سے پہلے میانوالی کے نثر نگاروں کے بارے میں پوسٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب اسی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ افسانہ نگاری...

تعلیم کہانی۔۔۔میکو شلم آنا اے!

طارق مجید خان موچھ کے نوجوانوں کی ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔ شائستہ اوردل چسپ انداز گفت گو کی حامل اس شخصیت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ پچھلے دنوں ایک ملاقات میں فیس بک انصافی جنونیوں کے بارے...

خودنوشت

انتخاب کا انتخاب… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

جب میں جامع سکول میں پڑھتا تھا تو وہاں ایک لڑکا انتخاب عالم ہمارا ہم جماعت تھا۔ وہ میانولی کی معروف تعلیمی شخصیت جناب پروفیسر غلام سرور خان شہباز خیل کا بھتیجا تھا۔ وہ نہم جماعت میں فیل ہونے کی...

دوسری جیل یاترا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

دسمبر 2009ء میں ہماری والدہ صاحبہ شدید بیمار تھیں اور اُن دنوں اُن کا زیادہ تر وقت ڈی ایچ کیو ہسپتال اور عبید نور ہسپتال میانوالی میں گزر رہا تھا۔ 23 دسمبر 2009 ء کو بھی وہ ڈی ایچ کیو...

پہلی جیل یاترا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

پہلی جیل یاترا فروری1999ءمیں بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ اُس وقت کے وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا تھا کہ ہم اس کا والہانہ (Red carpet) استقبال کریں گے۔ اُس...

تو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

میں انسان اچھا ہوں یا نہیں اِس پر میں رائے نہیں دے سکتا لیکن مجھے اتنا فخر ضرور ہے کہ میں ایک اچھا ٹیچر ہوں۔ میرے خیال میں میرے اندر چار اوصاف ایسے ہیں جو مجھے اچھا ٹیچر بناتے ہیں:...

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

اکتوبر 2006ء میں ہم نے اپنے سکولوں کے سابق طلبا کے لیے سالانہ اکٹھ کا بندوبست کیا۔ اس کا پہلا پروگرام 26 اکتوبر 2006ء کو بستی شاہ گل محمد میں منعقد ہوا تھا جس کے مہمانانِ خصوصی لیفٹیننٹ عارف اللہ...

میرا بہترین استاد اور بہترین سزا… سلسلہء خود نوِشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

میں اپریل 1987ء میں گورنمنٹ جامع ہائی سکول میانوالی میں چھٹی جماعت میں داخل ہوا تھا۔ اُن دِنوں غالباً شرابت خان صاحب پرنسپل تھے۔ اُن کے بعد جناب صوفی ملک رب نواز صاحب نے چارج سنبھالا تھا۔ ستمبر 1989ء...

یادِرفتگاں

کاظم رضا خان…اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے از مجیب اللہ خان نیازی

بلا شبہ مال و زر کی محبت بعض اوقات انسانوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے اور وہ اپنے قریبی رشتوں تک کو پامال کر دیتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے انسانوں کو اندر سے توڑ دینے...

سخی جان خان مندی خیل۔۔۔ جن سے مل کر عشق ہو جائے از مجیب اللہ خان نیازی

9 /اگست 2010 ء بھی اہل موچھ اور میرے لیےانتہائی اِبتلا اور حُزن و مَلال کا دن تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ چارپانچ روز قبل لاہور میں جس نوجوان کا ٹریفک حادثہ ہوا تھا وہ وفات پا گیاہے۔ میں...

محمدعزیر خان۔۔۔ بہت تھوڑے دنوں کا مہمان از مجیب اللہ خان نیازی

23 جولائی2010ء کی شام کو میں میانوالی میں ایک میٹنگ سے فارغ ہو کر دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا کہ مجھے برادرم محمد مشتاق خان کا فون آیاکہ محمد عزیر خان کا حادثہ ہو گیا ہے اور اسے...

طاہرعباس خان سوانسی۔۔۔ زندگی زندہ دلی کا نام ہے از مجیب اللہ خان نیازی

14 اور 15 مئی 2010 ء کی درمیانی رات کو میانوالی سے لاہور کا سفر کیا۔ سارے سفر میں اپنے ایک جاننے والے موٹر وے پولیس کے افسر ملک محمد یعقوب سے پاکستان اور آسٹریلیا کے مابینT-20کرکٹ میچ کی بذریعہ...

صبغت اللہ خان ننڈھ گھریا۔۔۔ ایک گمنام درویش از مجیب اللہ خان نیازی

12مارچ2010ء کی شام کو گزرے ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ میرے چچانعمت اللہ خان کا چشمہ کالونی سے مجھے فون آیا اور وہ گویا ہوئے:”ابھی اسلام آباد سے فون آیا ہے کہ صبغت اللہ بھانجافوت ہوگیا ہے۔“...

خرم غفار خان۔۔۔ صبر و شکر کا استعارہ از مجیب اللہ خان نیازی

اگر موچھ کو ذہین و فطین لوگوں کی سرزمین کہا جائے تو غلط اور بے جا نہ ہوگا۔ہمارے سینکڑوں حاضر سروس اور بیسیوں ریٹائرڈ افسران جو ہمارے پیارے ملک کے ہر شعبۂ زندگی میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے...

مشفق خواجہ کا خامہ بگوش

کالم نمبر 15.خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

کالم نمبر:15 (18/ دسمبر 1981ء) سُخن دَرسُخن۔۔۔خامَہ بگوش کے قلم سے معمارِ اعظم یا فراڈ: افسانہ نگار انور سجاد نے “ادبِ لطیف” کے تازہ شمارے میں “میں اور میرافن” کے عنوان سے ایک دل چسپ مضمون لکھا ہے۔ اس...

کالم نمبر14-خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

کالم نمبر:14 مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 11/ دسمبر 1981ء سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے انعام برائے حسنِ طباعت رائٹرز گلڈ کو انعامات کے لیے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں داخل کی گئی تھیں۔...

کالم نمبر13- خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

  کالم نمبر:13  مطبوعہ روزنامہ ”جسارت”  کراچی، 4/ دسمبر 1981ء سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے یہ تصویر جو ہمارے کالم کے ساتھ شائع ہو رہی ہے، اسلام آباد کے ادبی ڈائجسٹ ”ملّت“ میں...

کالم نمبر12- خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

کالم نمبر:12 مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی،  27/نومبر 1981ء سُخن دَرسُخن۔۔۔ خامہ بگوش کے قلم سے گلڈ انعامات دیتا ہے یاجرمانے کرتا ہے                                اس سال بعض جج بھی انعام...

کالم نمبر 11 – خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

کالم نمبر:11 مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 20/نومبر 1981ء سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے نثری نظم کا جھگڑا                                                                 نثری غزل بھی...

کالم نمبر 10 – خامہ بگوش (مشفق خواجہ) کے قلم سے

کالم نمبر:10 مطبوعہ روزنامہ ”جسارت” کراچی، 13/نومبر 1981ء سُخن دَرسُخن۔۔۔خامہ بگوش کے قلم سے  ”نقوش“ کا ”انیس نمبر“ یا متاعِ بردہ!  ”انیس نمبر“ کا صرف اداریہ غیر مطبوعہ ہے ”فنون“کا”محمد...

پانی اورپاکستان

ہیڈ قادر آباد تو بہتا رہے گا

گزشتہ دو دن سے دریائے چناب پر ہیڈ قادر آباد پر برپا سیلابی تاریخ کے اس سب سے بڑے معرکے میں محکمہ آب پاشی کے پنجاب کے افسران اور کارکنان الحمدللہ اپنی ان تھک محنت، عزم وہمت اور بہادری سے...

منڈی تو یاد رہے گا!

منڈی بہاؤالدین دلیر وں کا علاقہ ہے۔ کل منڈی کی قربانی نے نہ صرف ہیڈ قادرآباد بلکہ ضلع حافظ آباد، چنیوٹ اور درجنوں دیہاتوں کے انسانوں، فصلوں، سڑکوں اور جانوروں کو بچانے کے لیے بہت بڑی قربانی دی ہے۔...

ڈیم سیلاب کو کیسے روکتے ہیں؟

آج کل کچھ آبی ماہرین ڈیموں کی سیلاب کو روکنے کے حوالے سے افادیت کو بہت کم ترین بنا کر پیش کررہے ہیں حالانکہ ڈیم سیلاب سے نپٹنے کا ایک بہترین ٹُول ہیں۔ ڈیم کا بنیادی مقصد پانی کو ذخیرہ...

دریا کے بَیٹ کے نیچے پانی کی ایکوائفر کی حقیقت کیا ہے؟

    کل رات شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں ایک سینیئر آبی ماہر صاحب فرما رہے تھے کہ دریائے سندھ کے آبی نظام کے نیچے 3500 کلومیٹر لمبی اور 5 کلومیٹر چوڑی ایک ایکوائفر ہے جس کے اندر 500 ملین...

کوسٹل واٹر وے… ظفر اقبال وٹو

سی پیک منصوبے کے منصوبہ ساز موٹروے بناتے بناتے اگر گوادر کے لیے ایک “واٹر وے” بھی بنا دیتے تو یہ منصوبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتا۔ گوادر “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے عالمی تجارتی راستے کا وہ...

ہمارے پاس اب مزید وقت نہیں رہا… ظفر اقبال وٹو

شہری علاقوں میں ہر وقت رواں رہنے والی ٹونٹیاں ہماری زندگی میں ہی صرف ایک خواب بننے والی ہیں۔ ان کا ذکر کہانیوں میں ملے گا۔ بلوچستان کے ایک تھکا دینے والے فیلڈ وزٹ کے دوران ویرانے میں موجود ایک...

سفرنامے

جانے وہ کون تھی؟… قمر الحسن بھروں زادہ

جانے وہ کون تھی؟   پرسوں شام ڈھلے، مغربی افق پہ آنا فانا گرد آلود بادل نمودار ہوئے۔ پھر آندھی نما ہوا کے تیز جھونکوں نے دستک دی۔ پھر بارش کی ننھی منی بوندوں نے زمیں پہ قدم رنجہ فرمایا...

اُس شب کا رومان، ہائے!… قمر الحسن بھروں زادہ

    اس شب کا رومان۔۔۔ ہائے! جب بجلی چمکتی تو انگہ کی پہاڑیاں جو پوٹھوہار اور وادی سون کے درمیاں حدِ فاصل ہیں، روشن ہو جاتیں۔ اگست کی چھبیسویں شب اور زندگی کی بیسویں سالگرہ منائے مجھے بس...

پہلا پڑاؤ. ہیر سیال… قمر الحسن بھروں زادہ

پہلا پڑاؤ۔۔ہیرسیال چناب کے بائیں کنارے آباد ایک قدیم شہر اور شہر کے قدرے با رونق حصے میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مائی ہیر جھنگ، مائی ہیر سٹیڈیم، مائی ہیر قبرستان، دربار مائی ہیر اور مائی ہیر ٹاؤن ۔...

جانے کون بشر ہے؟… قمر الحسن بھروں زادہ

جانے کون بشر ہے؟ آفرین ہے اس کے لئے جس نے پُل ایجاد کیا اور سلام ہے اس کو جو دو کناروں کے درمیان پُل بنا۔ انہی پُلوں میں سے ایک پُل، لنگر والا پل کی تصویر کھینچنے کے لئے...

جھنگ، ایک جزیرہ…قمر الحسن بھروں زادہ

    جھنگ۔۔۔ایک جزیرہ   سڑک پہ صرف گرمی کا راج تھا، دھوپ کوتوال اور لو حکمران بنی ہوئی تھی۔ 8 جون کی دوپہر بائیک چلاتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پاؤں تندور میں معلق ہوں اور تندور...

میرا میانوالی

فیس بُک کے اہل قلم (قسط سوم)

ایبٹ آباد کے علاقے سے شکیل اعوان صاحب کالم شالم کے عنوان سے بہت خوبصورت تحریریں فیس بُک کی وساطت سے شیئر کرتے ہیں۔ شکیل اعوان عوامی سطح پر ایک بہت مقبول گلوکار کی حیثیت میں منظر عام پر متعارف...

فیس بُک کے اہل قلم (قسط دوم)

فیس بُک کے اہل قلم میں وہ لوگ مقبولیت کے لحاظ سے نمایاں ہیں جو میری طرح اپنے ماضی کی یادیں شیئر کرتے ہیں۔ آج کل فیروزاحمد خان ترین، سید عقیل شاہ، اور عبد المجید تلوکر صاحب یہ کام بہت...

فیس بک کے اہلِ قلم (قسط اول)

    آج سے دس سال پہلے جب میں نے فیس بک کی وادی میں قدم رکھا تو سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا میرا کوئی ہم عمر ہم مشرب بندہ بھی یہاں موجود ہے...

فیس بُک، عالمگیریت اور فوری رسپانس

فیس بک دل کی باتیں شیئر کرنے کا بہت اچھا وسیلہ ہے اس وقت بہت سے لوگ فیس بک پر اپنے خیالات احساسات معلومات، تجربات اور مشاہدات منظرعام پر لارہے ہیں۔ فیس بک کے قارئین ان پوسٹس سے محظوظ اور...

میانوالی کے نثر نگار… ڈاکٹر اجمل نیازی

مرحوم ڈاکٹر محمد اجمل نیازی اگرچہ بہت اچھے شاعر بھی تھے لیکن وہ بنیادی طور پرایک صاحب طرز نثر نگار تھے۔ صاحب طرز نثر نگار وہ ہوتا ہے جس کا اپنا منفرد انداز تحریر ہو۔ اچھے نثر نگار تو بہت...

میانوالی کے نثر نگار

میانوالی کے نثر نگار بحمد اللہ تعالٰی مری کا دورہ بخیرو عافیت تمام ہوا۔ مری روانگی سے پہلے میانوالی کے نثر نگاروں کے بارے میں پوسٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب اسی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ افسانہ نگاری...

تعلیم کہانی

تعلیم کہانی۔۔۔میکو شلم آنا اے!

طارق مجید خان موچھ کے نوجوانوں کی ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔ شائستہ اوردل چسپ انداز گفت گو کی حامل اس شخصیت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ پچھلے دنوں ایک ملاقات میں فیس بک انصافی جنونیوں کے بارے...

ماسٹر عمر خان…اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش

ہم ایک دو مرتبہ پہلے بھی لکھ چکے کہ بھائی عمر خان سے ہمارا اُس وقت تعارف ہوا جب ہم چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے اور یہ 1987ء کے بلدیاتی انتخابات میں ہمارے والد صاحب کے  پولنگ ایجنٹ بنےتھے۔ اُس...

تعلیم کہانی۔۔۔بُری اور ذہنی اپاہج افسر شاہی

ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس ملک پر اگر کسی نے حقیقی حکمرانی کی ہے تو وہ سول اور خاکی بیورو کریسی ہی ہے۔ جن ادوار کو ہم سیاسی ادوارِ حکومت کہتے ہیں ان میں بھی ملک کے حقیقی...

تعلیم کہانی۔۔۔ذکر ایک تقریب کا جس میں دولہے تو دو تھے، مگر کوئی دلہن نہ تھی

اگلے روز گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول موچھ میں جناب عابد حسین خان صاحب کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک انتہائی پر وقار تقریب منعقد کی گئی۔ اگرچہ اس تقریب میں ہر شعبۂ زندگی سے مہمانوں کو دعوت دی گئی تھی...

تعلیم کہانی۔۔۔بڑے عہدے چھوٹے لوگ

حافظ مشتاق خان کو میں 1999ء سے جانتا ہوں۔ اور ہر وہ شخص جو انھیں جانتا ہے وہ انھیں خوش اخلاق، خوش گفتار، وضع دار، با کردار، دیانت دار، حیادار، صاحبِ علم، اعلیٰ درجے کا معلم اور باکمال انسان کہے...

تعلیم کہانی۔۔۔ موچھ کی تعلیم میں اولیت کا دعویٰ

مکرروضاحت:اگست2017 میں میں نے اس بات کی خواہش کی تھی کہ مقامی سطح پر تعلیمی اداروں، تعلیمی شخصیات اور ہمارے معاشرے میں ان کے کردار اور اثرات پر مستقلاً لکھوں گا۔ ظاہر ہے یہ ایسا موضوع ہے جس میں...