0

ریل میں مفت سفر اور ”عزت افزائی”… سلسلہء خود نوشت؛ میں تو جیسے پتھر تھا!

Mujeeb Niazi

میرے پھوپھو زاد بھائیوں کے سگے چچا پاکستان ریلوے میں ملازم تھے۔ اس طرح ان کا ریل کا سفر ہمیشہ مفت ہوتا تھا۔ جب کبھی اُن سے ٹکٹ کا پوچھا جاتا تو وہ اپنے انکل کا نام لے لیتے اور ٹکٹ پوچھنے والا اپنا سا منہہ لے کر چلتا بنتا۔ ہمارا بھی اسلام آباد آناجانا شروع ہوا تو ہم نے بھی اس بہتی گنگا سے دو بار ہاتھ دھوئے لیکن اللہ کا کمال فضل دیکھیے کہ ان دو باریوں میں بھی اللہ نے ہمارے حصے میں خوب ”عزت افزائی“ لکھ دی تھی۔

ہمارے کزنز خود تو زبانی کہہ دیتے تھے کہ ہم فلاں کے بھتیجے ہیں لیکن انھوں نے ہمارے لیے ایک اضافی نیکی یہ کی کہ اپنے انکل کے ہاتھ کا لکھا ایک سرٹیفیکیٹ اس ہدایت کے ساتھ ہمیں تھما دیا کہ کوئی بھی ٹکٹ چیکر آئے تو اسے یہ سرٹیفیکیٹ دکھا دیا جائے۔وہ سرٹیفیکیٹ انگریزی میں لکھا تھا اور بچپن میں نا صرف ہماری انگریزی اپنی درسی کتاب کو پڑھ لینے تک محدود تھی بلکہ اُس سرٹیفیکیٹ کی تحریر کا نمونہ بھی ڈاکٹری نسخے کے عین مطابق تھا جسے ہر خاص وعام کے لیے پڑھنا ممکن نہ تھا‘ اس لیے ہمیں بھی معلوم نہ تھا کہ اس سرٹیفیکیٹ پر کیا لکھا ہے۔

وہ سرٹیفیکیٹ میں نے حسبِ عادت (آج تک میری یہ عادت ہے کہ کاغذوں کو فائل میں رکھنے کے بجائے میں جیب میں رکھتا ہوں) ہمہ وقت اپنی جیب میں رکھا ا ور اس طرح جب پہلے سفر میں اس ”ڈاکٹری نسخے“ کو دکھانے کی نوبت آئی تو وہ کافی خستہ ہو چکا تھا۔ ٹکٹ چیکر نے اُس کی خستہ حالی دیکھی تو اُسے خوب فولڈ کیا اور پنچنگ مشین سے چھ سات جگہوں پرپنچ کر دیا۔ میں نے اُسی طرح وہ پنچڈ(punched) فولڈڈ(folded) سرٹیفیکیٹ اُن سے واپس لیا اور اپنی جیب میں ڈال لیا۔
میری خوشی کی اس وقت انتہا نہ ہوتی جب میں اس مبارک اور مفید” نسخے“ کو ذہن میں لاتا جس کی بدولت میں آج مفت سفر سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ گاہے میں اپنے کزنز کو دعائیں دیتا جنہوں نے مجھے وہ ”تعویذ“ عنایت کیا تھا اور گاہے اُن کے انکل کو جنہوں نے یہ”تعویذ“ لکھا تھا۔ میں گولڑہ سٹیشن پر اتر کر سیدھا کراچی کمپنی پہنچ گیا اور میں نے اپنے کامیاب مفت سفر کی روداد اپنے کزنز کو بھی سنائی۔

چند دنوں کے قیام کے بعد پھر گولڑہ سے سوار ہوا اور میانوالی اترنے کا ارادہ کیا۔ راستے میں پھر ٹکٹ چیکرجیسے ہمارا ہی پیچھا کر ر ہا تھا۔ ہم نے اسے جیب سے وہ خستہ حال”تعویذ“ نکال کر دیا اور انھوں نے اسے کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ”تعویذ“ہے کہ پکوڑے بنانے والی چھلنی کا نقشہ پیش کررہا ہے۔ ایک عام کاپی کے صفحے پر لکھے گئے اس کاغذ میں لگ بھگ بیس پچیس چھید ہوں گے جو پچھلے ٹکٹ چیکر نے اس میں اپنی مشین سے کر ڈالے تھے۔ مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہو رہی تھی جب موجودہ ٹکٹ چیکرپکوڑوں کی چھلنی نما کاغذکو میرے سامنے لہرا رہاتھا۔ اس چھلنی نما کاغذ پر سے کچھ پڑھا تو جانا نہیں تھا اس لیے موصوف نے مجھ سے پوچھا کہ یہ تمہیں کس نے دیا ہے۔ میں نے فوراً اپنے کزن کے انکل کانام لیا۔انھوں نے کہا کہ آپ انھیں جانتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ کیوں نہیں۔ وہ میرے انکل ہیں بھلا میں انھیں کیوں نہیں جانوں گا۔ وہ مطمئن ہوگئے لیکن ظلم یہ کیا کہ اُس چھلنی نما کاغذ کو میرے سامنے پھاڑ دیا اور خاموشی سے میری جان چھوڑ گئے۔

اب میں دل ہی دل میں دونوں ٹکٹ چیکرز کا موازنہ کرنے لگا کہ کون سا ٹکٹ چیکر زیادہ انسان دوست اور رحم دل ہے۔ یقیناً مجھے پہلے والا ٹکٹ چیکر زیادہ رحم دل اور انسان دوست لگا کیونکہ اس نے ایک”غریب آدمی“ کے سرٹیفیکیٹ کو محض پنچ لگائے جبکہ اِس سنگ دل نے تو پورا سرٹیفیکیٹ ہی پھاڑ ڈالا تھا۔ اُس کے عمل کے بعد تو میں پھر بھی اس قابل تھا کہ دوبارہ مفت سفر کر سکتا لیکن اِس کے عمل سے تو میرے مفت سفر کرنے کا راستہ ہی بند ہوگیا تھا۔زیادہ سوچ بچار کے بعد جب دل میں زیادہ گھٹن ہونے لگی تو میں نے انگور کھٹے ہیں کے مصداق کہا کہ مفت سفر کرنا بھلا کون سا اچھا کام ہے۔ اس میں خواہ مخواہ بے عزتی کا امکان رہتا ہے۔ لہٰذا آئندہ کبھی بھی مفت سفر نہیں کروں گا ۔ بھلا اب مجھے ایسے سرٹیفیکیٹ کی کیا ضرورت ہے۔

انھی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ میانوالی سٹیشن آگیا۔ میں اپنی منزل پر اتر کر سٹیشن کے خارجی دروازے کی طرف جا رہا تھا کہ پیچھے سے میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہی ٹکٹ چیکر تھا۔ میرا تو ”تراہ“ نکل گیا کہ یا اللہ خیر! اب کیا ہوگا؟ کہیں مفت سفر کرنے کی پاداش میں میرے خلاف کوئی قانونی کارروائی تو نہیں ہونے جا رہی۔ یااللہ!میں نے تو ابھی ابھی تہیہ کیا ہے کہ آئندہ یہ کام نہیں کروں گا۔ میں انھی خیالات میں الجھا ہواتھا کہ اُنھوں نے میرے ہاتھ میں ایک بالکل نیا ”تعویذ“ پکڑایا اور کہا کہ میں ہی ”راجمیر خان“ ہوں۔

راج میر خان نیازی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں