0

صبغت اللہ خان ننڈھ گھریا۔۔۔ ایک گمنام درویش از مجیب اللہ خان نیازی

Mujeeb Niazi

12مارچ2010ء کی شام کو گزرے ابھی ایک گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ میرے چچانعمت اللہ خان کا چشمہ کالونی سے مجھے فون آیا اور وہ گویا ہوئے:”ابھی اسلام آباد سے فون آیا ہے کہ صبغت اللہ بھانجافوت ہوگیا ہے۔“

میں نے کہا:”یہ آپ کیا کہتے ہیں؟آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ ایسی غلط بات کیو ں کرتے ہیں؟“

غلطی پر لیکن میرے چچا نہیں بلکہ میں تھا کیونکہ موت اٹل اور نا قابل ِانکار و نا قا بلِ تردید حقیقت ہے اور بھائی صبغت اللہ خان بھی اس حقیقت کا سامنا کر چکے تھے۔

صبغت اللہ خان میرے پھوپھی زاد بھائی تھے، ہم سے بڑے تھے، اُن کی اور ہماری بہت کم ملاقاتیں ہوتی تھیں کیونکہ وہ میٹرک کرنے کے بعد کوئٹہ چلے گئے تھے اور وہیں پر بلوچستان ہائی کورٹ میں ملازمت اختیار کی۔بس شادی غمی اور عیدین پر ہی ملاقات ہوتی تھی۔ سانولے رنگ کے انتہائی پُر کشش نوجوان تھے۔اس قدر سنجیدہ اور چھوٹوں سے محبت کرنے والے انسان تھے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔بس اپنی دُھن میں لگے رہتے تھے۔ صرف چند ہی دوستیاں اختیار کیں اور انھیں مرتے دم تک نبھایا۔ جب کبھی موچھ آتے توزیادہ سے زیادہ ہمارے ڈیرے (ڈیرہ نجیب اللہ) پر یا اپنے ایک دوست،ندیم خان رئیس آف رستم والا کے گاؤں (رستم والا) جایا کرتے تھے۔

میٹرک تعلیم کے باوجود ملک کے معاملات،اُس کے ساتھ ہونے والے مظالم اور ملکی سیاست پرگہری نظر رکھتے تھے۔ اُن کی اِس خوبی کا علم ہمیں اُس وقت جب ہم خود بڑے ہوگئے اور انھیں موچھ میں چند دنوں کے قیام کے دوران بھی باقاعدہ اخبار منگواتے دیکھا۔انتہائی ایماندار اور قابل اہلکار تھے۔ اپنے کام میں لگن اور فرض شناسی کی بنیاد پر انتہائی اعلیٰ افسران میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اپنے کام میں دل چسپی اور ایمانداری ہی تھی کہ اُن کی چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری سے بھی ذاتی جان پہچان اور اُن سے تعارف تھا۔انتہائی اہم ذمہ داریوں پر رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کے لیے حرام کی دولت جمع کرنے سے مجتنب رہے۔

بھائی صبغت نے ہمیشہ سے اپنے تمام رشتہ داروں میں بانڈنگ کا کردار ادا کیا اور جب کبھی کسی رشتہ دار کے ہاں جاتے اور وہاں پر دوسروں کے گلے شکوے ہوتے تو یہ اُن کے درمیان حائل خلیج کو کم کرتے۔رشتہ داروں کے درمیان اس قدر بھلے مانس شخصیت تھے کہ اگر آپ اُن سے ناراض ہیں اور غصے میں جتنی کڑوی کسیلی باتیں کہہ گئے ہیں تو بھائی صبغت کی پیشانی پر بل تک نہ آتااور وہ مسکراتے رہتے۔ اس قدر تحمل اور بُرد باری ہم اہلیان موچھ میں اگر پائی جاتی تو آج موچھ کی فضا میں جا بجا بارود کی بُو نہ آتی،آج گلی گلی اور محلے محلے میں دشمنیوں کا لامتناہی سلسلہ نہ چل رہا ہوتا۔

صبغت اللہ خان نیازی

2002 ء میں صبغت اللہ بھائی کی بیوی کو ہڈیوں کا کینسر ہو گیا۔ان کی بچیاں چھوٹی تھیں۔بچیوں کے کھانے پینے اور سکول کے کام میں ان کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے سارے کام خود کرتے اور دن رات بیوی کی خدمت بھی کرتے۔ کینسر کی وجہ سے ان کی بیوی کا جسم شدید درد کرتا اور بھائی صبغت ان کا جسم دباتے اور جب انھیں قدرے آرام ملتا اور نیند آجاتی تو بھائی صبغت اللہ اس وقت بھی آرام نہ کرتے بلکہ اپنی بیوی کے سرہانے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے۔ بھلا اس بات پر کیا کسی کو یقین آئے گا کہ بیوی کی زندگی کے آخری چھے ماہ بھائی صبغت 24گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ سوپاتے تھے جبکہ باقی سارا وقت اپنی بیوی کی تیمارداری اور علاج کی غرض سے نہ صرف طویل سفر کیے بلکہ گھر اور ہسپتال میں مسلسل جاگتے بھی رہے تاآنکہ دسمبر 2004میں ان کی بیوی اللہ کو پیاری گئیں۔

مئی2005 ء میں بھائی صبغت کا نکاحِ ثانی ہوا۔ اس شادی سے اللہ تعالیٰ نے انھیں دو بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی۔2006ء میں ان کا تبادلہ بلوچستان سے اسلام آباد ہوگیا جہاں وہ سپریم کورٹ کے بلوچستان ہائی کورٹ کے آفس میں آگئے۔ اسلام آباد میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد انھیں اسلام آباد میں موجود پولن اُگانے والے درختوں کی وجہ سے سانس کی الرجی ہوگئی مگر اس خُوددار شخص نے اپنے خاندان، بھائیوں اور رشتہ داروں میں سے کسی کو اطلاع تک نہ ہونے دی۔ حسبِ سابق اور حسبِ روایت اپنی بیماری کوبھی تن تنہا جھیلتا رہا۔ اس دوران اس شخص کو شاید مالی پریشانی کا بھی سامنا رہا مگر مجال ہے کہ اس نے موچھ میں مقیم اپنے خاندان کو کانوں کان خبر بھی ہونے دی ہو حالانکہ مرحوم کے پورے خاندان کو اللہ تعالیٰ نے اچھی خاصی مالی حیثیت دے رکھی ہے اور بالخصوص مرحوم کے چھوٹے بھائی ساجدا للہ خان تواس قدر سخی اور فیاض شخص ہیں کہ حتی المقدور اپنے تمام رشتہ داروں کی بھی مالی اعانت کرتے رہتے ہیں لیکن اُس بھائی کی مالی اِعانت کیسے کی جائے جو روزانہ اپنے گھر فون پر بات بھی کرتا ہے مگر اپنے مالی حالات اور بیماری کا ذکر تک نہیں کرتا۔

یہ خُوددار شخص اکیلا ہی اپنے مالی حالات اور بیماری کا مقابلہ کرتا رہتا ہے۔12 مارچ کی نماز مغرب ادا کرنے کے بعد یہ شخص خود ہی چل کرقریبی مارکیٹ کے کسی ڈسپنسرسے اینٹی الرجی انجکشن لگواتا ہے اور وہ انجکشن اس کی زندگی کو اتنا مختصر کر دیتا ہے کہ چند ہی منٹ بعد یہ شخص اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتا ہے۔

اس بے ضرر اور محبت کرنے والے شخص کی موت پر نہ صرف اس کے چاہنے والوں کو بے حد صدمہ ہوا بلکہ اس کے اہلِ محلہ اوراہل ِموچھ کا جمِ غفیر اس مرد ِدرویش کے آخری دیدار کے لیے امڈآیا۔ بھائی صبغت کی ساری زندگی اپنے گھر، علاقہ حتیٰ کہ رشتہ داروں سے بھی دور گزری اور جب کبھی آئے بھی تو مسافروں کی طرح۔تبھی ان کے جنازے کو دیکھ کر مجھے ممتا ز عیسیٰ خیلوی کے یہ سرائیکی اشعار یاد آتے رہے:

 

ق                     مُسافر  دے   جنازے تے   ناہی  لوکاں  دی  جھا   تھیندی

اے  مخلُوقاں  کِڈوں  آئیاں،  تھَئے   اِعلان  کوئی  ناسے

اینویں  ممتاز کیوں رونداایں، اُجڑ گئے ہاں تاں کیہہ  ہویا   اے

جے  پہلے  وی  تاں  دنیا دے   اساں  سُلطان  کوئی   ناسے

 

جنازے کے بعد بھائی صبغت اللہ خان کی میت کو ہم ان کے آبائی قبرستان میاں ملوک صاحب ؒلے جا رہے تھے کہ وانڈھی درگئی خیل سے گزرتے ہوئے میں نے سامنے سے ایک سفید کار آہستہ آہستہ اپنی طرف آتے دیکھی۔ جب اچانک میری نظر کار ڈرائیور پر پڑی تووہ میرابہترین دوست طاہر عباس خان سوانسی تھا جس سے اُن دنوں میری ناراضی چل رہی تھی۔ میت کے احترام میں اُس نے گاڑی سائیڈ پر روک دی لیکن اُس وقت کسی کو کیا پتا تھا کہ اگلے دو ماہ کے اندر اُس شخص سے ہماری اتفاقاً صلح ہو جائے گی اور اُس کے ایک ہفتہ بعد اِس شخص کو بھی اسی طرح کندھے پر اٹھا کر لے جایا جا رہا ہوگا۔واہ میرے اللہ! واقعی تو بے نیا ز ہے۔

 

(اگست/ستمبر 2010ء میں قلبی تسکین اور روزنامہ ”نوائے شرر” میانوالی کے لیے لکھی جانے والی سات تحریروں میں سے ایک)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں