
گاڑی کا سٹیئرنگ کرنل اسحاق کے ہاتھ میں تھا لیکن گاڑی کا کنٹرول برساتی نالے کے پاس تھا۔ کرنل اسحاق کی بیٹی ڈیفینس ہاؤزنگ سوسائٹی کے برساتی نالے میں اپنی ڈوبتی ہوئی تقدیر کی کھڑکی سے مدد کےلےل ہاتھ ہلا رہی تھی لیکن ڈیفینس ہاؤزنگ سوسائٹی برساتی نالے سے اس کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔
برساتی نالے نے کرنل اسحاق اور اس کی بیٹی کو ان کی گاڑی سمیت کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے لیکن تاحال کرنل اسحاق اور ان کی بیٹی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
قدرت وقفے وقفے سے انسان کو باور کراتی رہتی ہے کہ اپنی تقدیر کا سراغ لگاتے رہو کہ وہ کہاں سے بگڑ رہی ہے۔ ہمارے عوام اور ان کے حکمران صرف ڈوبنے والی گاڑیوں اور ان میں موجود لاشوں کا سراغ لگا کر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ لاشوں کو کسی وی آئی پی قبرستان میں دفنا کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جائیں گے۔

سراغ تو یہ لگانا چاہیے کہ ڈی ایچ اے کے برساتی نالے جب اتنے منھ زور ہیں تو پھر کچی بستیوں کے برساتی نالے لوگوں کا کیا حشر نشر کرتے ہوں گے! سراغ تو یہ لگانا چاہیے کہ کہاں کہاں سے پانی کی گذرگاہوں پر ہاؤزنگ سوسائٹیاں کھڑی کر کے لوگوں کو نامعلوم مقامات پر منتقل کرنے کا بندوست کیا جاتا ہے۔ سراغ تو یہ لگانا چاہیے کہ ریاست کا سٹیئرنگ تو سنبھال لیا لیکن عوام کو برساتی نالوں کے کنٹرول پر کیوں چھوڑ دیا؟
لیکن یہ سراغ نہیں لگایا جائے گا کیونکہ اس سے ہاؤزنگ سوسائٹیوں کا رقبہ کم پڑ سکتا ہے یا انیںر گرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔
ڈوبنے والوں کےلےا صرف دعائے مغفرت بچی ہے تو وہ یہی غنیمت سمجھیں۔
تحریر: ظفر نیازی
22/جولائی 2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)