0

تعلیم کہانی۔۔۔بدلتا سرکاری سکول

Mujeeb Niazi
صاحبِ تحریر: مجیب اللہ خان نیازی

ایک زمانہ تھا کہ سنٹرل ماڈل سکول میانوالی کو نا صرف میانوالی بلکہ ملحقہ اضلاع کے قریبی علاقوں میں بھی ایک ممتاز تعلیمی ادارے کا درجہ حاصل تھا۔ بعد میں اس صف میں جامع ہائی سکول بھی شامل ہو گیا جب اس کی قیادت چودھری محمد رضی صاحب کے ہاتھ میں آئی۔ اس کے بعد پھر پرائیویٹ اداروں کا ایسا رواج پڑا کہ ان معروف تعلیمی اداروں کا حسن بھی پرائیویٹ اداروں کی چکا چوند کے آگے ماند پڑ گیا۔

پچھلے کچھ عرصہ(2-3) سال سے ایک بار پھر سرکاری سکول عظمتِ رفتہ کی طرف گامزن نظر آنے لگے ہیں (کم از کم میرا مشاہدہ تو یہی ہے)۔ مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی کیونکہ سرکاری ادارے اپنی فیکیلٹی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے پرائیویٹ اداروں کی نسبت کہیں آگے ہیں۔

چند دن پہلے اپنے ایک دوست محمد مشتاق خان آف موازوالا،  لینگویج ٹیچر گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول سمند والا کو ان کے سکول ملنے گیا۔ سکول کے مین گیٹ سے داخل ہوتے ہی سکول کی صفائی، خوب صورتی اور پھولوں، لانوں، اور قدرتی آرائشی پودوں نے بے حدمتاثر کیا۔ سکول کے اندر کامل خاموشی (Pin drop silence) سے یہ اندازہ ہوا کہ بچوں کے ہاں نظم و ضبط بھی اعلیٰ ہے۔

حافظ صاحب نے بچوں سے دو منٹ ہم کلام ہونے کی دعوت دی تو خواہش نہ ہونے کے باوجود مروتاً اور بادلِ نخواستہ کلاس ہشتم میں گیا۔ وہاں جا کر معلوم ہواکہ عربی ٹیچر کلا س کو پچھلے تین سال سے انگریزی پڑھا رہے ہیں۔ کیا آپ کو یقین آئے گا کہ ہشتم کلاس انگریزی مضمون میں اس قدر تیار تھی کہ ایک آدھ پرائیویٹ سکول کو چھوڑ کر کوئی پرائیویٹ سکول بھی اس معیار کی کلاس ہشتم انگریزی مضمونمیں تیار نہیں ہوگی۔ کلاس میں موجود اسی سے نوے فیصد بچے میری طرف سے کیے جانے والے سوال کے جواب میں ہاتھ کھڑا کرتے اور مزے کی بات یہ کہ میں ہر بار مختلف بچے سے جواب مانگتا اور وہ مجھے درست جواب دیتا۔اس وقت انگریزی پڑھانے والے ٹیچرزکا شدید فقدان ہے جبکہ کسی عربی ٹیچر کا اس قدر شاندار انگریزی پڑھانا یقیناً کمال ہے۔

حافظ مشتاق خان! یقیناً اس دنیا میں بھی آپ کا یہ فعل آپ کی عزت کا ضامن ہے اوران شااللہ آخرت میں بھی آپ کی نجات کا سبب ہو گا۔

میں گورنمنٹ ایلیمنٹری سکولسمند والا کے ہیڈ ماسٹرجناب محمد رسول صاحب، ان کے مایہ ناز ٹیچر حافظ محمد مشتاق خان، دیگر تمام میل و فی میل سٹاف حتیٰ کہ درجہ چہارم کے تمام ملازمیں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ معاشرے کی وہ تصویر ہو جس پر ہمیں فخر ہے۔

آخرپر محکمہ تعلیم کے بڑوں سےایک چھوٹا سا سوال کہ کیا محکمہ تعلیم کو بھی پتا ہے کہ یہ سکول اور اس کے اساتذہ فرض شناس، محنتی، لائق اور قابلِ احترام ہیں؟ یا آپ کے خیال میں یہ تمام بھی حرام خور، نکمے، کام چور، سست، کاہل اور قابلِ گردن زدنی ہیں؟

26/مارچ2018ء

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں