
مکرروضاحت:اگست2017 میں میں نے اس بات کی خواہش کی تھی کہ مقامی سطح پر تعلیمی اداروں، تعلیمی شخصیات اور ہمارے معاشرے میں ان کے کردار اور اثرات پر مستقلاً لکھوں گا۔ ظاہر ہے یہ ایسا موضوع ہے جس میں مقامی افراد کی تو دل چسپی ہو سکتی لیکن فیس بک کے ہمارے دیگر(بیرون میانوالی) دوستوں کی دل چسپی نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ اسی لیے میں نے لوکل تحریروں کو ایک مستقل عنوان ”تعلیم کہانی” دے دیا ہے تا کہ عنوان دیکھ کر ہی قاری یہ فیصلہ کر لے کہ آیا اس نے یہ تحریرپڑھنی بھی ہے یا نہیں۔
موچھ ایک ایسا علاقہ ہے جسے آپ میانوالی کا تعلیمی دنیا کا رہنما قرار دے سکتے ہیں۔ پورے ضلع میں موچھ سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ آپ کو کہیں نہیں ملیں گے۔ اس بات کا کریڈت مرحوم خان جی عباس خان صاحب، مرحوم سید رسول شاہ صاحب، مرحوم مجید اللہ خان صاحب، مرحوم و مغفور عبد الغنی خان صاحب اور مرحوم غلام جعفر خان صاحب اور اُن تمام سرکاری اساتذہ کرام کوجاتا ہےجنہوں نے معلمی کو فرض اور مشن سمجھ کرنبھایا(ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ کس کا حصہ کم ہے یا زیادہ)۔
جب پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے موچھ میں قدم رکھے تو اس وقت بھی موچھ تعلیم کے میدان میں ضلع بھر میں اول تھا۔ اس لیے اس تعلیمی اولیت کا کریڈٹ ہم پرائیویٹ تعلیمی اداروں یا پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد (جن میں سے ایک میں خود بھی ہوں)کو نہیں دے سکتے تاہم یہ ضرور ہے کہ جو شمع انھیں سرکاری اداروں اور عظیم اساتذہ کرام کی طرف سے ورثے میں ملی تھی وقت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر نے اس شمع کو پورے ضلع کی فضاؤں میں مزید روشن اور بلند ضرور کیا ہے۔
9/اکتوبر 2018ء