
اگلے روز گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول موچھ میں جناب عابد حسین خان صاحب کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک انتہائی پر وقار تقریب منعقد کی گئی۔ اگرچہ اس تقریب میں ہر شعبۂ زندگی سے مہمانوں کو دعوت دی گئی تھی تاہم کہیں کہیں ذاتی پسند نا پسند کی وجہ سے بعض قابل ذکر مقامی شخصیات کو نظر انداز بھی کیا گیا تھا۔ اس کمزوری کے باوجود تقریب کے با وقار ہونے میں کوئی شک نہ تھا کہ میرے علاوہ جن لوگوں کو بھی بلایا گیا تھا وہ سبھی اپنے اپنے میدانوں کے شہسوار تھے۔ اس کی صرف ایک مثال کہ دیگر قابلِ ذکر مہمانوں کے علاوہ سابق ڈی آئی جی جناب محمد عثمان خان، سابق ڈی جی آئی بی، جناب میجر جنرل رفیع اللہ خان صاحب اور سی ای او ایجوکیشن جناب ڈاکٹر وزیر آغا صاحب بھی تقریب کی زینت تھے۔

جناب عابد حسین خان میرے لیے حد درجہ قابلِ احترام ہیں کہ وہ میرے ماموں زاد بھائیوں کے خالو اور میرے خالہ زاد بھائیوں کے پھوپھا ہیں ۔ مزید یہ کہ عابد حسین خان ایک مہمان نواز، ڈیرے دار اور غریب پرور انسان ہیں۔ آپ کا تعلق علاقے کے ایک سردار گھرانے سے ہے اور آپ کے اندر روایتی سرداروں کی بہت سی خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک خوبی بات بات پر گالی دینا بھی ہے۔
جناب عابد حسین خان صاحب کے ماتحت کام کرنے والے مقررین میں سے ہر مقرر نے طویل تقریر کے بعد یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا کہ اگر اُسے ضبط ٹوٹنے اور آنسوؤں کے چھلک جانے کا ڈر نہ ہوتا تو وہ مزید تعریف و توصیف بھی کر سکتا تھا۔ المختصر مقررین نے عابد حسین خان کی توصیف میں کسی بخل سے کام نہ لیا۔ اگر کہیں بخل سے کام لیا گیا تو وہ عبد الغنی خان کا ذکر تھا۔ عبدالغنی خان طویل عرصہ سکول ھٰذا میں ایک ممتاز معلم اور 1996ء سے 1997ء تک سربراہِ ادارہ ھٰذا رہے۔ عبدالغنی خان ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں بلا مبالغہ ضلع میانوالی ہی نہیں پورے سرگودھا ڈویژن کے تعلیمی حلقوں میں عزت و احترام سے جانا جاتا تھا۔ نہ جانے مقررین اور منتظمین کی ایسی کون سی مجبوری تھی کہ وہ عبدالغنی خان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف تو کُجا تقریب میں اُن کا نام بھی نہ لے سکے۔ ماتحتوں میں سے عابد اللہ خان عابدی صاحب اور سابق ڈپٹی ڈی ای او سیکنڈری جناب امان اللہ خان صاحب کی تقریریں مذکورہ بالا اوصاف کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ غیر روایتی بھی تھیں۔ امان اللہ خان نے اس تقریب کو عابد حسین خان کی الوداعی تقریب کے بجائے اُن کے ولیمے کی تقریب قرار دیا اور انھیں دولہا کہا۔ گویا یہ تقریب ایک ”دولہے“ کی ”رخصتی“ کی تقریب تھی۔
جناب عابد حسین خان کے زیر شفقت تعلیم پانے والے طلبا میں حسن مجتبیٰ کی قرأت، صائم رضا کی نعت خوانی اور شاہ نور حیدر شاہ کی تقریر کا ذکر نہ کرنا بھی ایک خیانت ہوگی۔ مذکورہ تینوں طلبا کے کمالِ فن میں اساتذہ کی محنت چھلک رہی تھی۔ اس محنت پر واجد منیر شاہ اور حافظ مشتاق احمد خان ہاتھی خیل بالخصوص اور دیگر تمام اساتذہ ء ادارہ ھٰذا بالعموم تعریف و تحسین کے حق دار ہیں۔ شاہ نور حیدر شاہ میں علامہ طالب جوہری کا عکسِ خطابت اور محمد مشتاق خان، مواز والا کی شفقتِ معلمانہ کی جھلک بھی نظر آرہی تھی۔ محمد مشتاق خان نے ایک حقیقی معلم کا ثبوت دیتے ہوئے بہت پہلے، ابتدائی بچپن میں ہی اِس طالب علم کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور اُنھوں نے پرائمری سکول میں ہی اُن صلاحیتوں کو خوب نکھارا تھا۔ آگے چل کر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول موچھ کے اساتذہ نے اس بچے کی مزید تراش خراش کی اور اس طرح آج یہ بچہ انتہائی اعلیٰ درجے کا مقرر بن چکا ہے۔
جناب عابد حسین خان کے ماتحتوں کے علاوہ قابل ذکر تقاریر میں سے ایک اسد فاروق خان کی تقریر بھی تھی۔ انھوں نے اپنا خطاب انگریزی میں شروع کر کے مجھ جیسے نالائقوں کو اگرچہ ڈرا دیا تھا مگر شکر ہے کہ اُن کی یہ جارحانہ پالیسی صرف پہلے جملے تک ہی محدود رہی اور ازاں بعد انھوں نے انگریزی کو نمک کے طور پر محض تقریر کا ذائقہ برقرار رکھنے کے لیے ہی استعمال کیا۔ ان کی گفت گو کا محور عابد حسین خان کی عظمت کے بجائے موچھ اور اہل موچھ کی عظمت رہی۔ اس میں کیا حکمت پنہاں تھی ہم اُن سے ملاقات میں ضرور پوچھیں گے۔
جنرل رفیع اللہ خان کی تقریر کا موضوع ان کا اوڑھنا بچھونا یعنی تعلیم ہی تھا۔ جنرل صاحب تعلیم کو طاقت و ترقی کا سبب قرار دیتے ہیں اس لیے انھوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی ایک انتہائی معیاری تعلیمی ادارہ قائم کر رکھا ہے اور اُس کا انھوں نے اپنی تقریر میں ذکر بھی کیا۔ اُنھوں نے بجا فرمایا کہ اُن کے ادارے سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات کی کثیر تعداد ملک کے طول و عرض میں موجود ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ترقی صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ انھوں نے عابد حسین خان کے والد صاحب کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کے والد صاحب، امیر عبد اللہ خان (مرحوم) نے نصف صدی قبل اپنی اولاد کی تعلیم پر جو سرمایہ کاری کی آج نصف صدی بعد ان کے خاندان کا ہر فرد اس سرمایہ کاری کے درست اور مفید ہونے پر دال ہے۔

میری نظر میں اس تقریب کے دوسرے دولہے سی ای او ایجوکیشن جناب ڈاکٹر وزیر آغا صاحب تھے۔ اُن کی انتہائی مختصر تقریر میں ایک جملے پر مبنی ایک تیر بھی تھا جو انھوں نے اہل میانوالی کے سینوں میں بالعموم اور اہل موچھ کے سینوں میں بالخصوص پیوست کیا۔ سی ای او صاحب نے اُس جملے میں ثابت کیا کہ وہ بامعنی، بامقصد اور پیچیدہ ترین مضمون کے بیان پر بھی قادر ہیں۔ اُن کی فصاحت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک کتاب کو ایک جملے میں بحسن و خوبی بیان کر گئے۔ موصوف کا کہنا تھا کہ انھیں اُن کے کسی پولیس افسر دوست نے میانوالی کے تعارف میں کہا کہ وہاں جرم بالکل نہیں ہے کیونکہ آدھے لوگ جیلوں میں ہیں اور آدھے قبرستان میں۔
وزیر آغا صاحب اپنی گفت گو میں اول تا آخر معلم نظر آئے۔ اور کوئی بھی معلم محض زبان کی لذت کے لیے کسی کے سینے میں جملے کا خنجر پیوست نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ اُس کا مطمحِ نظر اصلاح احوال ہی ہوتا ہے۔ اس لیے انھوں نے خنجر کو بطور نشتر متاثرہ حصے کو کاٹنے کی غرض سے استعمال کیا اور اس کے فوراً بعد علاج اور مرہم بھی کر دیا۔ آغا صاحب نے علاج کے طور پر تمام معلمین کو یہ نسخہ دیا کہ تہذیب، امن، ترقی، خوشحالی اور حقیقی تبدیلی کی چابی صرف اور صرف استاد کے ہاتھ میں ہے (یہی بات ہم پچھلے دو عشروں سے کہہ رہے ہیں جس کا ایک دستاویزی ثبوت یو ٹیوب پر موجود ہماری ایک دس سال پرانی تقریر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے)۔
وزیر آغا صاحب کی خوبصورت تقریر کے بعد اس خوبصورت تقریب کا اختتام ہوا جس میں اگرچہ دولہے تو دو عدد موجود تھے مگر اُن کی بدقسمتی کہ دلہن کوئی نہ تھی۔
3/جنوری 2021ء