0

تربیلا کےسپِل وے توکُھل گئے لیکن ہماری عقل کے دروازے تا حال بند ہیں… ظفر اقبال وٹو

انجینیئر ظفر اقبال وٹو

تربیلا  کےسپِل وے توکُھل گئے لیکن ہماری عقل کے دروازے تا حال بند ہیں

تربیلا ڈیم کے سپِل وے کے دروازے تو آج کُھل گئے لیکن ہماری عقل کے دروازوں پر نہ جانے کب تک قُفل پڑے رہیں گے؟

تربیلا ڈیم سے آج نِکلنے والا 2 لاکھ ستر ہزار کیوسکِ پانی ایک مرتبہ پھر ہماری بے عملی، نااہلی اور سُستی کی داستان سُنا رہا ہے۔ یوں تو عام دِنوں میں تربیلا ڈیم میں جو پانی آب پاشی کے لیے چھوڑا جاتا ہے وہ زیرِزمین سُرنگوں کے ذریعے پاور ہاؤس سے گزار کر چھوڑا جاتا ہے جس سے ساتھ میں بجلی بھی پیدا ہوتی ہے لیکن سِپل وے سے نکلنے والے پانی سے نہ تو بجلی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وہ سٹور ہورہا ہوتا ہے۔

پاکستان کے پاس مُلکی ضروریات کا صرف 30 دِنوں کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جب کہ پاکستان کے واٹر سائیکل کو دیکھتے ہوئے کم از کم 200 دِنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔

انڈیا کے پاس 180 دِنوں اور چین کے پاس 1,000 دِنوں کی ملکی ضروریات پوری کرنے کی واٹر سٹوریج موجود ہے۔

آج دریائے سندھ کے تربیلا ڈیم پر پانی کی سطح اسپل وے تک پہنچ جانے کے بعد اسپل وے سے 1 لاکھ 10 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی کا اخراج شروع ہو گیا ہے ۔اگر ٹنلز کے راستے نکلنے والے پانی کو بھی شامل کریں تو کل 2 لاکھ 70 ہزار کیوسک پانی آج تربیلا ڈیم سے نِکل رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک لاکھ کیوسک پانی اگلے چند دنوں میں کوٹری بیراج سے نیچے سمندر میں گر جائے گا۔

پاکستان اپنے کلُ ملکی پانی کا صرف 10 فی صد (یعنی 14 ملین ایکڑ فٹ) ذخیرہ کرسکتا ہے جب کہ پاکستان کی واٹر سیکیورٹی کے لیے کم ازکم سٹوریج 40  فی صد (یعنی 50سے 60 ملین ایکڑ فٹ) ہونا چاہیے۔

انجینیئر ظفر وٹو

4/جولائی 2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں