
اس شب کا رومان۔۔۔ ہائے!
جب بجلی چمکتی تو انگہ کی پہاڑیاں جو پوٹھوہار اور وادی سون کے درمیاں حدِ فاصل ہیں، روشن ہو جاتیں۔ اگست کی چھبیسویں شب اور زندگی کی بیسویں سالگرہ منائے مجھے بس آٹھ دن ہی ہوئے تھے جب میں وائے کراس نوشہرہ کے ایک نجی کالج کے روم کی کھلی کھڑکی سے لمحہ بھر کے لیے روشن ہونے والی وادی کو دیکھ پاتا پھر میری چمکتی آنکھوں کو مایوس کر دینے والا اندھیرا چھا جاتا لیکن بارش بدستور جاری رہتی۔
ساون کی جھڑی کو دوسرا اور گھر کو چھوڑے ہوئے مجھے آج پہلا دن تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ صبح یہاں طلباء کے بے غم قہقے جنم لیتے ہیں جن کو تم نے کیمسٹری و فزکس کی رموز سے شناسائی دینی ہے لیکن اس سے پہلے شب بھر کی نہ کٹنے والی تنہائی میری منتظر تھی اور خاموشی کی روشنائی سے عبارت، گھر سے پہلی بار جدائی کے کاغذ میں ملفوف، ماں باپ سے دوری کی نویں نکور کتاب تھی جس کو نہ کھولا جا سکتا تھا اور نہ ہی رکھ دینا مرے لیے ممکن تھا۔
مجھ تک جو کنڑیوں کی آواز تھی وہ وادیِ سون کی زرخیز زمینوں پہ پڑنے والی ساون کی رم جھم کی صورت لعل و گوہر کی بوچھاڑ تھی جن کے ثمرات کے دام کسان کی محنت ، امید اور خلوص سے نا آشنا بیوپاری ہر صبح سبزی منڈیوں میں اپنی دانست میں زیادہ حالانکہ بہت ہی کم لگاتے تھے۔
آخری انسان کی آواز جو میرے کانوں میں پڑی تھی وہ ایف ایم میانوالی کا میرے نوکیا کے موبائل میں ریکارڈڈ پروگرام تھا جسے آفتاب خان نے ہوسٹ کیا تھا۔
آج ہی صبح بابا نے مجھے کہا تھا کہ میرے ہوتے ہوئے تم بھوکے نہیں مرتے، تم گھر سے نہ جاؤ، گائے کے مکھن سے لتھڑی تندور کی گرم روٹی، پیاز، ٹماٹر اور سبز مرچ کے نیم پکے آمیزے کے ساتھ کھا کر پھر لسی پی کر ، بیٹھک میں میرے دائیں ہاتھ بچھی چارپائی پہ سو جایا کرو یہاں تک کہ مؤذن ظہر کی نماز کے لیے اور تمھاری ماں پیشیں کی چائے کے لیے ہمیں جگا نہ دے۔
میں دن کی نیند قربان کر آیا تھا یہاں تو رات کو سونا بھی دو بھر ہو چلا تھا۔
ہوا چلنے لگی تھی جس کے دوش پہ بارش کی ننھی منی بوندیں کھڑکی کی جالی سے گزر کر میرے رخسار پہ پڑ رہی تھیں حالانکہ میں چارپائی پہ ٹانگیں نیم دراز کئے پشت مخالف دیوار سے لگائے بیٹھا تھا۔ وادی سون کے موسم کی انفرادیت تھی کہ کمرے میں اتنی خنکی ہو گئی تھی کہ مجھے ہڈالی کے جولاہوں کا دستی کھڈیوں پہ بنا سیاہ اور سفید ڈبی دار سوتی کھیس شال کی طرح اپنے گرد لپیٹنا پڑا جو ماں نے نکلتے وقت زبردستی میرے بیگ میں رکھ دیا تھا۔
شام کا کھانا ہوٹل سے کھا لیا تھا۔ ذائقہ ماں کے ہاتھ کے ذائقے کے پانسے میں بھی نہیں تھا۔ مصالحہ تیز جبکہ میری پیشانی پہ ابھرتے ناگواریت کے بل دیکھنے کے لیے شفقت بھری آنکھیں ندارد تھیں اور اوپر سے دودھ کی نمکین کچی جس میں برف کی ڈلیاں تیر رہی ہوتی تھیں اس کی خوشبو تک بھی میسر نہیں آئی تھی۔
رات بھر بارش ہوتی رہی ، پہاڑیوں کی چوٹیوں کے لمحہ بھر کے لیے سہی لیکن انمٹ یادوں کے نقوش چھوڑ کر جانے والے درشن ہوتے رہے اور اسی کھیل میں پل بھر نہ سو پایا۔ وہ عجب رات تھی جس کی سحر کے انتظار میں ، تھک ہار کر اپنی آنکھوں پہ پلکوں کا خود ساختہ خیمہ تان لینے کا رومان ایک طرف لیکن آج میں یادوں کے مقفل دریچے کو کھول کر اندھیرے میں ٹٹولوں اور پھر بکھرے ڈھیر میں سے خزینے کو اس کی خوشبو سے پہچان لوں اور اس پہ پڑی وقت کی بے ثباتی کی گرد جھاڑوں کہ کیسے اس ماہرو کا میرے اصرار پہ میری نظروں سے نظریں ملانا، نہ شرمانے کی اداکاری کرتے ہوئے ہونٹ بھینچے چند لمحے مسکراتے رہنا اور پھر حیا سے بوجھل اس کی پلکوں کا جھک جانا ، پھر اٹھنا اور پھر دھڑام سے پردے کی مانند گر جانا اور اس منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے آج بھی بے ساختہ میرا اپنی آنکھوں کو موند لینے کا رومان ایک طرف۔
قمرالحسن بھروں زادہ
17/مئی 2025ء
(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)