0

زیرِزمین آبی قلعے…انجینیئرظفر وٹو

انجینیئر ظفر اقبال وٹو

 

 

واسا لاہور نے قذافی سٹیڈیم کے اطراف اکٹھےہونے والے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لے لیے 40 لاکھ گیلن کی گنجائش والا زیرزمین ٹینک بنا دیا ہے جو اس وقت لاہور شہر کا سب سے بڑا انڈر گراونڈ ٹینک ہے۔تاج پورہ میں اس سے بھی زیادہ گنجائش والا انڈر گراونڈ واٹر ٹینک زیرِتعمیر ہے۔ شدید بارش میں سڑکوں سے اکٹھا کیا جانے والا یہ پانی بعد میں پارکوں اور باغبانی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس سے پہلے واسا لاہور نے لارنس روڈ، کشمیر روڈ اور شیرانوالہ گیٹ کے مقامات پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے تین زیرِ زمین ٹینکوں کا کام مکمل کر لیا ہے اور وہ اب زیرِاستعمال ہیں اور ان میں سے ہر ٹینک 15 لاکھ گیلن تک پانی ذخیرہ کررہا ہے۔

دُنیا میں سیلابی پانی کا سب سے بڑا زیرِ زمین قلعہ جاپان میں ہے جوکہ 70 میٹر گہرے پانچ ٹاورز پر مشتمل ہے۔ یہ ٹاور اتنے بڑے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک ٹاور میں امریکہ کا مجسمۂ آزادی یا خلائی شٹل سما سکتے ہیں اور یہ آپس میں 6.3 کلومیٹر لمبی سیلابی پانی گزارنے والی سُرنگوں کے ذریعے ملے ہوئے ہیں جو ٹوکیو کے پانچ دریاؤں کی کیپیسٹی سے بڑھنے والا پانی دریاؤں سے باہر نکال لاتی ہیں۔ 13 سال کے کام کے بعد 2006ء میں مکمل ہونے والا یہ دنیاکا سب سے بڑا فلڈ واٹر ڈائیورشن پراجیکٹ کہا جاتا ہے جو ایک گھنٹے میں 50 ملی میٹر تک ہونے والی بارش کو سنبھال سکتا ہے ( یعنی آدھے کلاؤڈ برسٹ کو)۔

لاہور میں اہم نشیبی مقامات پر اس طرح کے مزید 9 پانی کے ٹینک زیرِ تعمیرہیں جن میں تاج پورہ، راوی روڈ پر کریم پارک، ریلوے اسٹیشن، وارث روڈ، کُوپر روڈ، رسول پارک اور علامہ اقبال ٹاؤن میں سبزی منڈی کے علاقے شامل ہیں ۔ ان تمام ٹینکس میں سے ہر ایک کی بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 15 لاکھ گیلن ہوگی۔منصوبے کے اختتام تک 2 کروڑ گیلن سے زیادہ بارش کا پانی جمع کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہوگی۔

مینارِ پاکستان
بادشاہی مسجد لاہور

لاہور میں ان زیرِزمین پانی کے ذخیروں کو ڈیزائن کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ تین مقاصد کی تکمیل کریں:

1۔        سڑکوں سے زیادہ بارش کے دوران پانی کو نکالنا تاکہ ٹریفک کی رواں رہے۔

2۔        زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا۔

3۔        ذخیرہ شدہ پانی کو باغبانی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس طرح زیر زمین پانی پر بوجھ کو کم کرنا۔

تحریر: انجینیئر ظفر وٹو

25/جولائی 2025ء

(مصنف کی اجازت سے اُن کی فیس بک وال سے منقول۔ ایڈمن تِریاق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں