زندگی کا پہلا کاروبار

ہم جس آبائی رقبے میں رہائش پذیر ہیں (ڈیرہ نجیب اللہ) اِسے ہمارے دادا حاجی محمد خان صدر نے 1967ء میں بجلی کا ٹیوب ویل لگا کر آباد کیا تھا۔ غالباً 1980ء میں ہم تمام لوگوں نے موچھ سے ہجرت کر کے اس رقبے میں رہائش اختیار کی تھی۔ بجلی کے ٹیوب ویل کے ساتھ ساتھ ترشاوہ پھلوں کے ایک باغ نے ہمارے ڈیرے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رکھے تھے۔ موسم بہار میں باغ خوب پھولوں اور پھلوں سے لد جاتا۔ اور گرمیوں کے اختتام پر ہم سنگترے کھانا شروع کرتے اور نومبر دسمبر میں فروٹر سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ سردیوں کے اختتام پر کینوں پر جا کر ختم ہوتا۔
موسم بہارمیں جب کبھی ہلکی پھلکی آندھی آتی اور بارشیں ہوتیں تو مالٹے کے پیڑوں سے کچا پھل گر جاتا۔ ہم اکثر اسے چن لیتے اور اُس سے کھیلتے تھے۔ میری عمر چھ سات سال ہوگی کہ ایک موسم بہار میں جب یہ پھل گرا تو میں نے اُسے چنا اور خیال آیا کہ کیوں نہ اِسے بیچا جائے۔ میں اپنے مریدین (چھوٹا بھائی اور بھانجی) کو ساتھ لے کر گرے ہوئے چھوٹے چھوٹے مالٹے جن کا سائز بمشکل ایک عام سے لیموں کے برابر ہوگا‘ چن کر اپنے رقبے سے ملحق ایک گزر گاہ پر درخت کے نیچے چٹائی بچھا کر بیٹھ گیا۔ اِن گرے ہوئے مالٹوں میں ایک مالٹا نسبتاً موٹے لیموں کے برابر تھا اور باقیوں کا سائز تو آپ کو بتا ہی چکا ہوں۔ اب سب پہلے ہم نے اپنی ”پیداوار“ (پروڈکٹ) کی قیمت طے کی۔ ہم نے طے کیا کہ چھوٹے مالٹے ایک روپے میں دو دیں گے جبکہ بڑے مالٹے کا ہم پورا ایک روپیہ وصول کریں گے۔

ہر گزرتے مسافر کو ہم اپنا گاہک سمجھتے لیکن وہ ہم سے مالٹے نہ خریدتا۔ تاہم وہ ہم سے اتنا ضرور پوچھتا کہ مالٹے بیچ رہے ہیں۔ اور ہم پورے اعتماد سے کہتے کہ جی ہاں۔ جب کافی دیر گزر گئی اور کوئی گاہک نہ ملا تو ہم نے پروڈکٹ کے فروخت نہ ہونے کے اسباب جاننے کی کوشش کی۔ طے پایا کہ قیمتیں خریداروں کی پہنچ سے دور ہیں لہٰذا ہم نے نئی قیمتوں کا تعین کیا۔ اب ہم نے طے کیا کہ چھوٹے مالٹے ایک روپے میں چار دیئے جائیں گے جبکہ بڑے مالٹے کی اٹھنی (پچاس پیسے) وصول کی جائے گی۔ نئی قیمتیں بھی گاہکوں کو متوجہ نہ کرسکیں۔ پھر نئی قیمتیں طے ہوئیں اور اب کی بار چھوٹے مالٹے ایک روپے میں آٹھ جبکہ بڑے مالٹے کی قیمت چونّی طے پائی (پچیس پیسے)۔
اِس سے پیشتر کہ ہم اپنی پروڈکٹ کی قیمت مزید کم کرتے ایک آدمی آیا اور اُس نے ہمیں ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ کیا کررہے ہو۔ ہم نے سہمے ہوئے جواب دیا کہ مالٹے بیچ رہے ہیں۔ اُس نے ہمارے سٹال سے سب سے مہنگا مالٹا اُٹھایا (مفت) اور کہا کہ یہ سب کچھ اُٹھاﺅ اور گھر دفع ہوجاﺅ۔
اب جب کم و بیش 35 سال بعد ہم اس واقعہ کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں تو خود پر ناصرف ہنسی آتی ہے بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ کاش وہ صاحب دیر سے آنے کے بجائے جلدی آجاتے اور ہم اتنی دیر لوگوں کے سامنے ”دکانداری“ کرنے کی شرمندگی سے تو بچ جاتے۔
بہر حال وہ دن اور آج کا دن۔ مجال ہے جو کبھی ہم نے دکان کھولنے کا سوچا بھی ہو۔